بلوچستان یونیورسٹی مستونگ کیمپس کی مسلسل بندش؛ طلبہ کے تعلیمی سال کو ضائع ہونے سے بچایا جائے، بی ایس او
بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان یونیورسٹی کے مستونگ کیمپس میں تعلیمی سرگرمیوں کی طویل معطلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے کا طویل عرصے تک غیر فعال رہنا محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ اس کے براہِ راست اثرات طلبہ کے مستقبل پر مرتب ہوتے ہیں۔ مستونگ کیمپس میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے تدریسی سرگرمیوں کا معطل رہنا اور اس حوالے سے واضح حکمتِ عملی کا سامنے نہ آنا طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہے۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی تعلیمی پسماندگی، محدود تعلیمی مواقع اور بنیادی سہولیات کے فقدان جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں جو ادارے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی فراہم کر رہے ہیں، انہیں فعال رکھنے کے بجائے طویل عرصے تک بند رکھنا کسی طور قابلِ جواز نہیں۔ مستونگ کیمپس کے طلبہ نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے جس ادارے کا انتخاب کیا ہے، اس کی بندش کے باعث ان کی کلاسز، نصاب، امتحانات اور تعلیمی منصوبہ بندی متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گرمیوں کی تعطیلات کا مقصد طلبہ اور تدریسی عملے کو ایک مخصوص مدت کے لیے تعلیمی سرگرمیوں سے وقفہ فراہم کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اداروں کو غیر معینہ مدت تک غیر فعال رکھنا۔ اگر تعطیلات کے بعد بھی کیمپس میں تدریسی عمل شروع نہیں ہو سکا تو یونیورسٹی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کو اس کی وجوہات اور آئندہ کا لائحۂ عمل طلبہ کے سامنے واضح کرنا چاہیے۔
بی ایس او کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں سے متعلق پالیسی سازی میں طلبہ کو محض اعداد و شمار کا حصہ سمجھنے کے بجائے ان کے تعلیمی حقوق اور مستقبل کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ ایک کیمپس کی بندش بظاہر معمولی انتظامی فیصلہ محسوس ہو سکتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں سینکڑوں طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اور ان کی تعلیمی پیش رفت متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے حکومتِ بلوچستان، محکمۂ تعلیم، ہائر ایجوکیشن کے متعلقہ حکام اور بلوچستان یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ مستونگ کیمپس کے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تدریسی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے واضح ٹائم لائن دی جائے۔ طلبہ کو غیر یقینی کیفیت میں رکھنے کے بجائے انہیں بتایا جائے کہ کیمپس کب اور کن انتظامات کے ساتھ دوبارہ فعال ہوگا۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ بی ایس او طلبہ کے تعلیمی حقوق کے معاملے پر خاموش نہیں رہے گی۔ مستونگ کیمپس کے طلبہ کو درپیش صورتحال کا جائزہ لینے اور ان کے مطالبات کو متعلقہ فورمز تک پہنچانے کے لیے تنظیم ہر ممکن جمہوری و پرامن جدوجہد کی حمایت کرے گی۔ طلبہ کے وقت، محنت اور تعلیمی مستقبل کو انتظامی غفلت کی نذر نہیں ہونے دیا جا سکتا۔

