کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر جان مینگل نے بلوچستان کے وسائل، لاپتہ افراد، گوادر، ریکوڈک اور صوبے کی محرومیوں کے حوالے سے ریاستی پالیسیوں پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان نے پاکستان کو قدرتی وسائل، گیس، سمندر اور دیگر وسائل دیے، لیکن اس کے باوجود صوبے کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
ایک کھلے خط میں اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان کو صرف گوادر تک محدود سمجھنا درست نہیں، صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ریکوڈک میں سونے اور تانبے کے ذخائر، سینڈک کے معدنی وسائل اور سوئی گیس سمیت بلوچستان نے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کیا، تاہم ان وسائل سے مقامی آبادی کو وہ فوائد نہیں مل سکے جن کی وہ حقدار ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوئی سے نکلنے والی گیس نے ملک کے گھروں کے چولہے جلائے اور صنعتوں کو توانائی فراہم کی، مگر بلوچستان کے کئی علاقوں کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
اختر مینگل کا کہنا تھا کہ گوادر کو پاکستان کی معاشی ترقی کا اہم مرکز قرار دیا جاتا ہے، مگر وہاں کے مقامی ماہی گیر آج بھی اپنے روزگار اور بنیادی حقوق کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان نے بہت کچھ دیا، لیکن بدلے میں صوبے کو محرومی، غربت اور بے یقینی کا سامنا رہا۔
انہوں نے لاپتہ افراد کے معاملے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے متعدد خاندان اپنے پیاروں کی واپسی یا ان کے بارے میں معلومات کے منتظر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی شخص پر الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
بی این پی رہنما نے اپنے والد، بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ سردار عطا اللہ مینگل کے خاندان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک سیاسی خاندان بھی اس مسئلے سے متاثر ہو سکتا ہے تو پھر بلوچستان کے عام خاندانوں کی مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اختر مینگل نے کہا کہ جب بلوچستان کے لوگ اپنے حقوق، وسائل اور لاپتہ افراد کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں تو ان سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ وہ خود کو پاکستانی سمجھتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی شہری کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر بھی اپنی وفاداری ثابت کرنا پڑے تو پھر برابری اور شہریت کے تصور پر سوال اٹھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی شکایات کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان کے ساتھ سنجیدہ مکالمہ کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی پالیسیوں اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والی دوری نے بلوچ نوجوانوں میں بداعتمادی کو جنم دیا ہے۔
اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان آج سوال کر رہے ہیں کہ اگر صوبے نے ملک کو اپنے وسائل دیے ہیں تو ان وسائل پر مقامی لوگوں کا حق کیوں تسلیم نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو صرف وسائل فراہم کرنے والے صوبے کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے برابر کے حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جبکہ صوبے کے عوام کو سیاسی، معاشی اور بنیادی شہری حقوق کی ضمانت دینا ضروری ہے۔
بی این پی رہنما نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت کے بجائے سیاسی مکالمے، انصاف، وسائل میں شراکت اور عوام کے اعتماد کی بحالی سے ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، بلوچستان کے بغیر کچھ بھی نہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کے حکمران اور عوام بلوچستان کے نوجوانوں کے تحفظات کو سمجھیں اور ان کے سوالات کا جواب طاقت کے بجائے دلیل، انصاف اور برابری کی بنیاد پر دیں۔

