Ultimate magazine theme for WordPress.
Ads side
Ads side

بلوچستان: جب موسم بدلتا ہے تو زندگی بھی بدل جاتی ہے

بلوچستان: جب موسم بدلتا ہے تو زندگی بھی بدل جاتی ہے

تحریر:تحریم معظم

موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات نے بلوچستان کے عام انسان کو گرمی، خشک سالی، سیلاب، پانی کی قلت اور معاشی مشکلات کے ایک نئے چکر میں دھکیل دیا ہے

بلوچستان کا ذکر آتے ہی ہمارے ذہن میں وسیع پہاڑ، خشک زمین، صحرائی علاقے اور دور دور تک پھیلی ہوئی بستیاں آتی ہیں۔ لیکن اس خاموش اور وسیع خطے میں ایک اور تبدیلی تیزی سے رونما ہو رہی ہے—موسم بدل رہا ہے، اور اس تبدیلی کی قیمت سب سے زیادہ عام انسان ادا کر رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی بلوچستان کے لیے کوئی دور کا خطرہ نہیں رہی۔ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت، بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز، طویل خشک سالی، شدید گرمی کی لہریں، اچانک آنے والے سیلاب اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت نے صوبے کے قدرتی ماحول کے ساتھ ساتھ لوگوں کے روزمرہ معمولات اور ذریعۂ معاش کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق بلوچستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے حوالے سے انتہائی کمزور صوبوں میں شامل ہے، جبکہ صوبے کو شدید پانی کے دباؤ، ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں اور تباہ کن جنگلاتی آگ جیسے خطرات کا سامنا ہے۔

گرمی جو صرف درجۂ حرارت نہیں

بلوچستان میں گرمی کوئی نئی بات نہیں، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب گرمی کی شدت، دورانیہ اور اس کے اثرات معمول سے بڑھنے لگیں۔ صوبے کے شہر تربت اور سبی شدید گرمی کے لیے پہلے ہی مشہور ہیں۔ بلوچستان کلائمیٹ چینج پالیسی کے مطابق تربت میں 2017 میں 52 ڈگری سینٹی گریڈ درجۂ حرارت ریکارڈ کیا گیا، جو پاکستان میں ریکارڈ کیے گئے بلند ترین درجۂ حرارت میں شمار ہوتا ہے۔

ایسی شدید گرمی کا اثر صرف موسم تک محدود نہیں رہتا۔ باہر کام کرنے والے مزدور، کسان، ٹرانسپورٹ ورکرز اور دیگر محنت کش براہِ راست گرمی کی زد میں آتے ہیں۔ شدید گرمی انسانی صحت کے لیے خطرہ بنتی ہے اور خصوصاً ان لوگوں کے لیے مشکلات بڑھاتی ہے جن کے پاس ٹھنڈا ماحول، مناسب طبی سہولیات یا مسلسل بجلی تک رسائی نہیں۔

خشک سالی: جب زمین روزگار دینا چھوڑ دے

بلوچستان کی بڑی آبادی براہِ راست یا بالواسطہ زراعت اور مویشیوں سے وابستہ ہے۔ ایسے میں بارشوں کا غیر یقینی ہونا اور طویل خشک سالی صرف ماحول کو متاثر نہیں کرتی بلکہ لوگوں کی آمدنی کو بھی متاثر کرتی ہے۔

UNDP کے مطابق بلوچستان پاکستان کا سب سے زیادہ خشک سالی سے متاثر ہونے والا صوبہ ہے، جبکہ صوبے کی 60 سے 70 فیصد دیہی آبادی خشک سالی کے اثرات سے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر ہونے کے خطرے میں ہے۔ 1998 سے 2002 کی شدید خشک سالی کے دوران بلوچستان میں زرعی پیداوار تقریباً نصف رہ گئی تھی، جبکہ اس بحران نے دیہی علاقوں سے نقل مکانی میں بھی اضافہ کیا۔

خشک سالی کا مطلب ایک کسان کے لیے صرف کم فصل نہیں۔ اس کا مطلب ہے کم آمدنی، مویشیوں کے لیے چارے اور پانی کی کمی، خوراک کے اخراجات میں اضافہ اور بعض اوقات اپنے آبائی علاقے کو چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں دوسرے شہروں کا رخ کرنا۔

ایک تحقیقی مطالعے میں بلوچستان کے کسانوں کے درمیان کیے گئے سروے اور موسمیاتی اعداد و شمار کے تجزیے سے ظاہر ہوا کہ درجۂ حرارت اور بارشوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ نے خشک سالی کے خطرے کو بڑھایا ہے۔ مطالعے کے مطابق تقریباً 64.7 فیصد آبادی خشک سالی کے خطرے سے براہِ راست یا بالواسطہ متاثر ہو سکتی ہے۔

کبھی پانی کی بوند کو ترس، کبھی پانی کا سیلاب

موسمیاتی تبدیلی کا سب سے پیچیدہ پہلو یہ ہے کہ ایک ہی خطہ کبھی پانی کی شدید قلت کا شکار ہوتا ہے اور کبھی اچانک شدید بارش اور سیلاب اسے تباہ کر دیتے ہیں۔

2022 کی مون سون بارشوں نے بلوچستان میں اس حقیقت کو نمایاں کر دیا۔ شدید بارشوں اور سیلاب سے گھر، سڑکیں، پل، مویشی اور روزگار کے ذرائع متاثر ہوئے۔ UNDP کے مطابق 2022 کے سیلاب سے بلوچستان میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ تقریباً 349 ارب روپے لگایا گیا، جبکہ بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے مزید 491 ارب روپے درکار تھے۔

سیلاب کے بعد مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ جس خاندان کا گھر تباہ ہو جائے، جس کسان کی فصل بہہ جائے یا جس مویشی پالنے والے کے جانور مر جائیں، اس کے لیے تباہی کا اثر کئی ماہ بلکہ کئی سال تک جاری رہ سکتا ہے۔

روزگار سے ہجرت تک

موسمیاتی تبدیلی کا ایک خاموش اثر موسمیاتی ہجرت ہے۔

جب بارشیں کم ہوں، فصلیں متاثر ہوں، مویشیوں کے لیے پانی اور چارہ دستیاب نہ ہو اور مقامی روزگار کے مواقع محدود ہو جائیں تو خاندان بہتر مواقع کی تلاش میں دوسرے علاقوں یا شہروں کی طرف منتقل ہونے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

یوں موسمیاتی تبدیلی صرف ماحول کا مسئلہ نہیں رہتی؛ یہ معاشی اور سماجی مسئلہ بن جاتی ہے۔ ایک طرف دیہی علاقوں سے لوگ روزگار کے لیے شہروں کا رخ کرتے ہیں، تو دوسری طرف شہروں پر آبادی، روزگار، رہائش، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کا دباؤ بڑھتا ہے۔

خواتین اور کمزور طبقے سب سے زیادہ متاثر

موسمیاتی بحران سب کو متاثر کرتا ہے، لیکن اس کے اثرات ہر شخص پر یکساں نہیں ہوتے۔ بلوچستان کی کلائمیٹ چینج پالیسی کے مطابق موسمیاتی خطرات خوراک کی عدم تحفظ اور صحت کے مسائل کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ خواتین، نوجوانوں اور کمزور طبقات کو غیر متناسب طور پر متاثر کر رہے ہیں۔

خصوصاً دیہی علاقوں میں جب پانی دور ہو جائے یا دستیاب وسائل کم ہو جائیں تو گھر کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری رکھنے والے افراد پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔ یوں موسمیاتی تبدیلی گھر کے اندر بھی ایک معاشرتی مسئلہ بن جاتی ہے۔

ساحلی بلوچستان بھی محفوظ نہیں

موسمیاتی تبدیلی کا اثر صرف بلوچستان کے خشک اور پہاڑی علاقوں تک محدود نہیں۔ مکران کے ساحلی علاقوں میں سمندری سطح میں اضافے، ساحلی کٹاؤ اور سمندری پانی کے اندر آنے جیسے خطرات بھی موجود ہیں۔

UNDP کے مطابق بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث tropical storms، ساحلی بارشوں اور سمندری پانی کے intrusion کی شدت اور خطرات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ بلوچستان کا ایک حصہ خشک سالی اور شدید گرمی سے لڑ رہا ہے تو دوسرا حصہ ساحلی خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔

مسئلہ صرف موسم کا نہیں، ہماری تیاری کا بھی ہے

موسمیاتی تبدیلی کو مکمل طور پر ختم کرنا کسی ایک صوبے یا ملک کے اختیار میں نہیں، لیکن اس کے نقصانات کو کم کرنا ضرور ممکن ہے۔

بلوچستان کو ایسے ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے جو مقامی موسمی حالات کو سامنے رکھ کر بنائے جائیں۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنا، پانی کے استعمال کو بہتر بنانا، خشک سالی برداشت کرنے والی فصلوں کو فروغ دینا، مویشیوں کے لیے بہتر انتظامات، شجرکاری اور جنگلات کا تحفظ، سیلاب سے بچاؤ کے لیے مقامی سطح پر منصوبہ بندی، early warning systems اور عوام میں موسمیاتی آگاہی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہونے چاہئیں۔

سب سے بڑھ کر ضروری ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پر بات صرف کانفرنسوں اور پالیسی دستاویزات تک محدود نہ رہے بلکہ عام انسان کی زندگی کو مرکز بنایا جائے۔

کیونکہ بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی کا اصل چہرہ کسی گراف یا درجۂ حرارت کے اعداد و شمار میں نہیں، بلکہ اس کسان میں نظر آتا ہے جس کی فصل بارش نہ ہونے سے سوکھ گئی، اس چرواہے میں جس کے مویشی پانی اور چارے کی کمی سے متاثر ہوئے، اس مزدور میں جو شدید گرمی میں روزی کمانے پر مجبور ہے، اور اس خاندان میں جو سیلاب کے بعد اپنا گھر دوبارہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی مستقبل کی کہانی نہیں—یہ بلوچستان کے لوگوں کی آج کی حقیقت ہے۔

اور اگر آج اس حقیقت کو سمجھ کر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ

موسم کتنا بدلا؟

بلکہ سوال یہ ہوگا کہ ہم نے اپنے لوگوں کو اس بدلتے موسم کے لیے کتنا تیار کیا؟

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.