بلوچستان میں پانی کا بحران: جب ہر بوند زندگی بن جائے
تحریر: خالد زبیر
بلوچستان کا وسیع و عریض خطہ اپنی خشک آب و ہوا، کم اور غیر یقینی بارشوں اور طویل فاصلے تک پھیلے دیہی علاقوں کے باعث پانی کے بحران سے دوچار ہے۔ یہاں پانی کی کمی محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ زراعت، روزگار، صحت، تعلیم اور بالخصوص خواتین اور بچوں کی روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا بحران ہے۔
پاکستان کے رقبے کا تقریباً 44 فیصد حصہ بلوچستان پر مشتمل ہے، مگر صوبے میں سالانہ بارش 200 ملی میٹر سے بھی کم رہتی ہے۔ ایسے ماحول میں زیرِزمین پانی صوبے کی زندگی کا ایک اہم سہارا بن چکا ہے۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز (PCRWR) کے مطابق بلوچستان اپنی پانی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک زیرِزمین پانی پر انحصار کرتا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں زیرِزمین پانی کی سطح ہر سال تقریباً 5 میٹر تک نیچے جا رہی ہے۔
زیرِزمین پانی کہاں جا رہا ہے؟
پانی کے بحران کی بڑی وجوہات میں بے تحاشا زیرِزمین پانی نکالنا، ٹیوب ویلز میں مسلسل اضافہ، آبپاشی کے روایتی اور غیر مؤثر طریقے، کم بارش، آبادی میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی شامل ہیں۔
PCRWR کے مطابق بلوچستان میں ٹیوب ویلز کی تعداد 1980 میں تقریباً 5 ہزار تھی، جو 2015 تک بڑھ کر 40 ہزار سے زیادہ ہوگئی۔ ادارے کے مطابق پانی کی سطح میں کمی کی بنیادی وجوہات میں زیرِزمین پانی کا ضرورت سے زیادہ اخراج اور پمپ کیے گئے پانی کا غیر مؤثر استعمال شامل ہیں۔
کوئٹہ وادی کی صورتحال اس بحران کی ایک واضح مثال ہے۔ ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق بعض علاقوں میں 1987 سے 2010 کے دوران زیرِزمین پانی کی سطح اوسطاً تقریباً 1.5 میٹر سالانہ کم ہوئی، جبکہ 2010 سے 2015 کے دوران وادی کے بعض مشرقی حصوں میں کمی 1.5 سے 5 میٹر سالانہ تک ریکارڈ کی گئی۔
ایک اور تحقیقی جائزے کے مطابق کوئٹہ وادی کے بعض حصوں میں گزشتہ 12 برسوں کے دوران پانی کی سطح میں تقریباً 60 میٹر تک کمی ریکارڈ کی گئی۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بلوچستان کا پانی کا بحران صرف مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ کئی علاقوں میں آج کی حقیقت بن چکا ہے۔
ایک چھوٹا سا گاؤں، پانی کا ایک ذریعہ
اعداد و شمار اپنی جگہ، لیکن پانی کے بحران کی شدت ان لوگوں کی زندگیوں میں زیادہ واضح ہوتی ہے جو روزانہ اس کا سامنا کرتے ہیں۔
ڈیرہ بگٹی کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے ایک رہائشی کے مطابق پہلے بھی علاقے میں پانی کی کمی تھی، لیکن اب صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت پورے گاؤں میں پانی کا صرف ایک ہی ذریعہ باقی رہ گیا ہے، اور اگر وہ بھی بند ہو جائے تو مقامی لوگوں کے لیے پینے اور روزمرہ ضروریات کا پانی حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
ایک محدود ذریعے پر پوری بستی کا انحصار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں پانی کی دستیابی کتنی غیر یقینی ہو چکی ہے۔ ایسے علاقوں میں کسی ایک ذریعہ آب کے خشک ہونے یا خراب ہونے کا مطلب پوری آبادی کے لیے ایک نئے بحران کا آغاز ہو سکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی بحران کو کیسے بڑھا رہی ہے؟
بلوچستان میں بارش کا انحصار پہلے ہی محدود ہے۔ جب بارش کم ہو، غیر یقینی ہو یا مختصر عرصے میں شدید بارش کی صورت میں ہو تو زیرِزمین پانی کو قدرتی طور پر دوبارہ بھرنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتا ہوا درجہ حرارت بھی مسئلے کو پیچیدہ بناتا ہے۔ زیادہ گرمی سے پانی کے بخارات بننے کی شرح بڑھتی ہے، جبکہ خشک سالی کے دوران زمین اور آبی ذخائر پر دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔
دوسری طرف جب شدید بارش یا سیلاب آتا ہے تو پانی کا بڑا حصہ تیزی سے بہہ جاتا ہے۔ اگر اس پانی کو ذخیرہ یا زمین میں جذب کرنے کا انتظام نہ ہو تو ایک طرف سیلاب آتا ہے اور دوسری طرف کچھ عرصے بعد پانی کی قلت دوبارہ سامنے آ جاتی ہے۔
پانی کا بحران اور بلوچستان کی خواتین
پانی کی کمی کا بوجھ معاشرے کے ہر فرد پر پڑتا ہے، مگر اس کا ایک بڑا حصہ خواتین اور لڑکیوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
بلوچستان کے 2010 کے Multiple Indicator Cluster Survey کے مطابق گھریلو استعمال کے لیے پانی لانے والوں میں 55.1 فیصد بالغ خواتین تھیں، جبکہ بالغ مردوں کا حصہ 32.2 فیصد اور لڑکیوں کا 4.4 فیصد تھا۔ اگرچہ یہ ڈیٹا پرانا ہے، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ پانی جمع کرنے کی ذمہ داری میں خواتین کا کردار کتنا نمایاں رہا ہے۔
پانی کے ایک دور دراز ذریعے تک روزانہ سفر صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ خواتین کی تعلیم، صحت، روزگار اور گھریلو زندگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
نصیرآباد کے ایک گاؤں کی صورتحال بیان کرتے ہوئے ایک ماحولیاتی کارکن نے بتایا کہ وہاں لوگوں کو پینے کا پانی بھی مناسب مقدار میں دستیاب نہیں تھا۔ پانی کی مقدار اتنی کم تھی کہ لوگ اسے ضائع کرنے کے بجائے دوبارہ استعمال کرنے پر مجبور تھے۔ کپڑے دھونے اور واش روم سمیت مختلف ضروریات کے لیے استعمال شدہ پانی کو بھی ممکن حد تک دوبارہ استعمال کیا جاتا تھا۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پانی کی قلت کس طرح لوگوں کو اپنی روزمرہ ضروریات اور معمولات تک تبدیل کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
2026 میں UNICEF کی ایک رپورٹ نے بلوچستان کے لورالائی کے ایک گاؤں کی مثال پیش کی جہاں پانی کی شدید قلت کے باعث لڑکیاں اور خواتین دور دراز علاقوں سے پانی لانے پر مجبور تھیں۔ بعد میں شمسی توانائی سے چلنے والا پانی کا نظام قائم ہونے سے گھروں تک پانی پہنچا اور روزمرہ زندگی میں نمایاں آسانی پیدا ہوئی۔
یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ پانی کی فراہمی بہتر کرنا صرف ایک بنیادی سہولت فراہم کرنا نہیں، بلکہ خواتین اور لڑکیوں کے وقت، تعلیم اور زندگی کے مواقع کو بھی واپس دینا ہے۔
حل کیا ہے؟
بلوچستان کے پانی کے بحران کا حل صرف نئے ٹیوب ویل لگانا نہیں ہو سکتا۔ اگر پانی زمین سے نکالا جاتا رہے اور اسے دوبارہ زمین میں پہنچانے کا انتظام نہ ہو تو بحران مزید شدید ہوگا۔
ماہرین اور اداروں کی جانب سے groundwater recharge کو ایک اہم حل قرار دیا جا رہا ہے۔ PCRWR نے بلوچستان میں بارش کے پانی کو زمین میں دوبارہ جذب کرنے کے لیے leaky dams، check dams، inverted wells اور rainwater harvesting جیسے طریقوں پر کام کیا ہے۔ 2023-24 کے ایک منصوبے میں کوئٹہ، پشین، لورالائی اور قلات میں ایسے پائلٹ منصوبے بھی کیے گئے۔
اس کے ساتھ ساتھ:
– غیر ضروری اور بے قابو ٹیوب ویلز کی نگرانی ضروری ہے۔
– زیرِزمین پانی کے اخراج اور سطح کی مسلسل مانیٹرنگ ہونی چاہیے۔
– زراعت میں drip irrigation اور دیگر پانی بچانے والی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا چاہیے۔
– بارش کے پانی کو گھروں، کھیتوں اور مقامی ذخائر میں محفوظ کرنے کے منصوبے بڑھانے چاہئیں۔
– قدیم کاریز نظام کی بحالی اور تحفظ پر توجہ دینی چاہیے۔
– شہری علاقوں میں پانی کے ضیاع کو روکنے اور ری سائیکلنگ کے نظام کو فروغ دینا چاہیے۔
– پانی کے منصوبوں میں خواتین اور مقامی آبادی کی شمولیت یقینی بنائی جانی چاہیے۔
PCRWR بلوچستان میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، groundwater recharge اور مقامی سطح پر پانی کے بہتر استعمال کے مختلف طریقوں پر بھی کام کر رہا ہے۔
پانی صرف آج کا مسئلہ نہیں
بلوچستان میں پانی کا بحران دراصل مستقبل کا بحران بھی ہے۔ اگر زیرِزمین پانی کی سطح مسلسل گرتی رہی، بارش کا پانی ضائع ہوتا رہا اور پانی کے استعمال کا موجودہ طریقہ تبدیل نہ ہوا تو اس کے اثرات صرف کسان یا ایک گھر تک محدود نہیں رہیں گے۔
یہ مسئلہ خوراک، روزگار، ہجرت، تعلیم اور مقامی معیشت تک پھیل سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ پانی کو صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ مستقبل کی نسلوں کی امانت سمجھا جائے۔ حکومت، ماہرین، مقامی آبادی اور سول سوسائٹی کو مل کر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو پانی کے موجودہ ذخائر کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے نئے وسائل پیدا کر سکیں۔
بلوچستان میں آج ایک سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے:
کیا ہم ہر بار پانی ختم ہونے کے بعد اس کی تلاش شروع کریں گے، یا آج ہی ہر بوند کو محفوظ کرنے کا فیصلہ کریں گے؟
کیونکہ یہاں پانی صرف پیاس بجھانے کا نام نہیں۔
پانی… زندگی، روزگار اور بقا کے درمیان لکیر ہے۔
تحریر: خالد زبیر

