بلوچستان میں کوئی نوگرایر نہیں،صوبے کےعوام ریاست اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں ،وزیراعلی میر سرفراز بگٹی
کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے مسلسل تیسرے روز کھلی کچہری کا انعقاد کیا، جہاں مختلف اضلاع سے آنے والے شہریوں کے مسائل سنے اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو احکامات جاری کیے۔ اس موقع پر قبائلی عمائدین سے ملاقاتیں بھی کی گئیں اور علاقائی مسائل و ترقیاتی ضروریات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عوامی مسائل کا حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ کھلی کچہری کا مقصد عوام کو براہ راست اپنی شکایات پیش کرنے کا موقع فراہم کرنا اور ان کے حل کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ شہریوں کی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی نو گو ایریا نہیں اور صوبے کے عوام ریاست اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان اسمبلی بھی اپنے حلقوں میں باقاعدگی سے جاتے ہیں اور علاقائی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پنجاب کے علاقے تونسہ کو بلوچستان سے ملانے والی شاہراہ کے لیے وفاقی فنڈز کے اجرا کی خاطر کوششیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے چھپر قومی شاہراہ سے کھرڑ بزدار تک سڑک کی تعمیر کے لیے سروے کے احکامات بھی جاری کر دیے۔ ان کے مطابق اس سڑک کی تعمیر سے بلوچستان کو پنجاب کے لیے ایک متبادل راستہ میسر آئے گا اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
میر سرفراز بگٹی نے ضلع بارکھان میں شامل ہونے والے علاقوں اندر پہوڑ، میریڑی واہ اور رڑہ شم سمیت دیگر علاقوں کے سرکاری اسکول کھولنے کی خصوصی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ بچیوں کی تعلیم کو بھی یکساں اہمیت دی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں ایک پائلٹ پراجیکٹ پر کام جاری ہے۔
دریں اثنا، وزیراعلیٰ بلوچستان سے سیاسی و سماجی رہنما میر یعقوب بزدار نے ملاقات کی اور علاقے کے مسائل و ترقیاتی ضروریات سے آگاہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے کھرڑ بزدار سے ڈیرہ غازی خان تک مریضوں کی منتقلی کے لیے فوری طور پر ایمبولینس سروس فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سروس کے ماہانہ اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے گی۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل، تعلیم، صحت، مواصلات اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
