نوّے کی دہائی سے آج تک #قوم #پرست #سیاستدانوں نے #بلوچستان کے عوام کے سامنے بہت سے وعدے، نعرے اور سیاسی منشور پیش کیے۔ قوم کے حقوق، ساحل وسائل، شناخت، ترقی اور خود مختاری کی بات بار بار کی گئی ، لیکن سوال یہ ہے کہ عملی طور پر ان وعدوں کا نتیجہ کیا نکلا؟
آج کے نوجوان کو اب صرف وعدے نہیں، عملی کام چاہیے۔
سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کو اب نعروں اور تقاریر سے نہیں بلکہ ان کے عملی اقدامات، عوامی مسائل کے حل اور بلوچستان کے اجتماعی مفاد کے لیے کیے گئے حقیقی کاموں سے جانچنا ہوگا۔ اگر کئی دہائیوں کی سیاست کے باوجود بنیادی مسائل آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں تو اس پر سوال اٹھانا میرا حق ہے۔
بلوچستان کو ایسی سیاست کی ضرورت نہیں جو چند ترقیاتی اسکیموں یا محدود سیاسی مفادات کے بدلے اپنے اصولی مؤقف پر سمجھوتہ کر لے۔
اسی طرح بلوچستان کے عوام کو ایسی سیاست بھی نہیں چاہیے جو ہر مسئلے کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال کر اپنی سیاسی اور انتظامی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جائے۔
بلوچستان کو مخلص اور #جواب #دہ #قیادت چاہیے
بلوچستان کو ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اپنے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر بلوچستان اور اس کے عوام کے حقیقی مفاد کی #نمائندگی کرے۔
ایسی قیادت جو عوام کے مسائل کو صرف انتخابی نعروں تک محدود نہ رکھے جو تعلیم، صحت، روزگار، خواتین کی سیاسی شمولیت، نوجوانوں کے مستقبل، بنیادی سہولیات اور معاشی ترقی کے لیے قابلِ عمل پروگرام دے اور پھر ان پروگراموں کے نتائج کے لیے جواب دہ بھی ہو۔
بلوچستان کو ایسی مخلص اور بااصول قیادت چاہیے جو عوام کے حقوق کی حقیقی آواز بنے، عوام کے سامنے جواب دہ ہو اور اپنے عمل سے ثابت کرے کہ سیاست اقتدار یا مفاد کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام کی خدمت اور حقوق کے تحفظ کا عہد ہے۔
میرا یہ سوال کسی ایک جماعت یا فرد کے خلاف نہیں بلکہ مجموعی سیاسی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت کی طرف اشارہ ہے۔
قوم پرستوں کو صرف سیاسی نعرہ نہیں بلکہ اپنے عوام کے حقوق، عزت، شناخت اور مستقبل کے تحفظ کا عہد کرنا چائیے ۔ اگر کوئی سیاسی جماعت عوام کے حقوق کی بات کرتی ہے تو اس کی کارکردگی کو صرف جلسوں، تقاریر اور سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ اس کے عملی اقدامات سے بھی جانچنا چاہیے۔
بلوچستان کے عوام کو ایسی سیاسی قیادت چاہیے جو وفاق سے اپنے حقوق کا مطالبہ بھی کرے اور صوبے کے اندر اپنی کارکردگی کا حساب بھی دے۔
آج کے موجوان کو جواب چاہیے؟
اگر امن و امان اور پسماندگی بڑے چیلنج ہیں تو ان کے لیے سیاسی جماعتوں کا جامع منصوبہ اور پروگرام کیا ہے؟
صرف مسئلے کی نشاندہی سیاست نہیں مسئلے کا قابلِ عمل حل پیش کرنا بھی قوم پرست سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے۔
آج بلوچستان کی نوجوان نسل پہلے کی نسبت زیادہ باشعور اور سیاسی طور پر حساس ہے۔ وہ سیاسی نعروں اور جذباتی تقاریر کو سنتی ضرور ہے، لیکن اب وہ نتائج بھی دیکھنا چاہتی ہے۔
آج کا نوجوان یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر کئی دہائیوں سے بلوچستان کے حقوق کی سیاست جاری ہے تو ان کی زندگی میں بنیادی تبدیلی کیوں نہیں آئی؟
وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ اسے تعلیم، ہنر، روزگار، کاروبار، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی مواقع کب اور کون دے گا۔
نئی نسل کو صرف ماضی کی سیاسی جدوجہد کی کہانیاں نہیں چائیے اسے اپنے مستقبل کا واضح نقشہ چائیے ۔
میرے سوال کسی قوم پرست سیاسی پارٹی کے خلاف نہیں بلکہ قوم پرستوں کو مزید مؤثر، حقیقت پسند اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے ہے۔
ان کو سیاست کا معیار اب تبدیل کرنا چاہیے
قوم پرست سیاسی جماعتیں اگر اپنے ماضی کی سیاسی جدوجہد کو مستقبل کی عملی حکمتِ عملی سے جوڑنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ بلوچستان کی سیاست میں ایک مضبوط اور مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔
لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوام سے صرف یہ نہ کہیں کہ ہم آپ کے حقوق کی آواز ہیں، بلکہ اپنے عمل سے یہ بھی ثابت کریں کہ ہم آپ کے مستقبل کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔
کیونکہ اب بلوچستان کے عوام کو صرف آواز نہیں، نتیجہ چاہیے۔

