اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میری موت کا ذمہ دار ظہور جمالزئی ہوگا
اغوا کے دوران مجھ سے زبردستی ویڈیوز ریکارڈ کروائی گئیں
میرا نام اسماء جتک ہے۔ میں آج پوری قوم، حکومتِ پاکستان، حکومتِ بلوچستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا سے انصاف کی اپیل کر رہی ہوں۔
5 فروری 2024 کو میں خضدار سے اغوا ہوا۔ اس واقعے میں ظہور جمالزئی ملوث تھے۔ میں متعلقہ اداروں سے درخواست کرتی ہوں کہ اس معاملے کی غیرجانبدار، شفاف اور فوری تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آئیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو۔
اغوا کے دوران مجھ سے زبردستی ویڈیوز ریکارڈ کروائی گئیں، اور اب وہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہیں، جس سے میری عزت، وقار اور ذہنی سکون کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
میں یہ بھی بیان کرتی ہوں کہ میرے خاندان کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ہمارے خلاف مختلف الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ میں متعلقہ حکام سے اپیل کرتی ہوں کہ ان تمام معاملات کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ہمیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
میں خاص طور پر نواب ثناء اللہ خان زہری صاحب اور نعمت اللہ خان زہری صاحب سے مؤدبانہ اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور مجھے انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
میں عوام، میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی درخواست کرتی ہوں کہ میری آواز ذمہ داری کے ساتھ متعلقہ اداروں تک پہنچائیں تاکہ اس معاملے کی منصفانہ تحقیقات ہو سکیں۔

