خضدار ( آئی این پی ) خضدار میں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل اور تشویشناک حد تک گر رہی ہے، جس پر شہریوں اور ماہرینِ ماحولیات نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کی کئی وجوہات ہیں، تاہم دو عوامل سب سے زیادہ نمایاں قرار دیے جا رہے ہیں۔پہلی وجہ شہریوں اور مقامی ماہرین کے مطابق کٹان ندی میں ٹینکر مافیا اور غیر قانونی بجری نکالنے والے عناصر کی جانب سے مختلف مقامات پر کھدائی ہے، جس سے گہرے گڑھے بن چکے ہیں۔ بارش کے دوران پانی انہی گڑھوں میں جمع ہو جاتا ہے، نتیجتا ندی کے قدرتی بہا اور زیرِ زمین آبی ذخائر کی ریچارج کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔دوسری جانب شہریوں کا مقف ہے کہ متعلقہ سرکاری محکموں اور بعض ٹھیکیداروں کی مبینہ بدعنوانی کے باعث متعدد واٹر سپلائی اسکیمیں نامکمل چھوڑ دی جاتی ہیں، جبکہ نئی سرکاری ٹیوب ویل اور کنویں مسلسل کھودے جا رہے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ ان میں سے کئی بور چند ماہ بعد ہی خشک ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی کی سطح مزید نیچے چلی جاتی ہے۔ ماہرینِ آبی وسائل کے مطابق زیرِ زمین پانی کے بے تحاشا استعمال اور ریچارج میں رکاوٹیں آبی ذخائر پر دبا بڑھا سکتی ہیں۔شہریوں، سماجی حلقوں اور ماہرین نے حکومت بلوچستان، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ کٹان ندی سے غیر قانونی بجری نکالنے کی مثر روک تھام کی جائے، واٹر سپلائی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے، نئے سرکاری ٹیوب ویل سائنسی جائزے کے بعد ہی منظور کیے جائیں اور خضدار میں زیرِ زمین پانی کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع پالیسی نافذ کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت عملی اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں خضدار کو شدید آبی بحران، زیرِ زمین پانی کی مزید کمی اور خشک سالی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
