روزنامہ زمانہ کوئٹہ آفس سے 9 ملازمین کی برطرفی پر اخبار فروش فیڈریشن کا شدید احتجاج، حکومتی نوٹس لینے کا مطالبہ
آل پاکستان اخبار فروش فیڈریشن کے رہنماؤں میر احمد راسکووال، شاہجہان بلوچ اور انجمن فلاح و بہبود اخبار فروش کے اراکین و سابق عہدیداروں عبدالنبی سمالانی، نذر محمد ناصر، نصیب اللہ کاکڑ، ہدایت اللہ ساسولی اور دیگر اخبار فروشوں نے اپنے مشترکہ بیان میں روزنامہ زمانہ کے کوئٹہ آفس سے 9 ملازمین کو بغیر کسی وجہ کے ملازمت سے نکالنے اور بے روزگار کرنے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے ملازمین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے گورنر بلوچستان، وزیراعلیٰ بلوچستان، صوبائی سیکرٹری اطلاعات اور ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ حکومت بلوچستان سے اس معاملے کا سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض اخبارات بلوچستان حکومت سے لاکھوں روپے کے اشتہارات حاصل کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود بلوچستان کے مقامی افراد کو بے روزگار کرنے پر تلے ہوئے ہیں، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملازمین گزشتہ 20 سال سے اخبارات میں کام کر رہے ہیں، انہیں بغیر کسی وجہ کے بے روزگار کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پہلے ہی بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے، جبکہ دوسری جانب اخبارات اور ٹی وی چینلز سے ملازمین کو نکالا جا رہا ہے، جس کا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس لینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اخبارات اور ٹی وی چینلز کو ماہانہ لاکھوں روپے کے اشتہارات دیتی ہیں، لیکن بلوچستان میں اخبارات اور ٹی وی چینلز بغیر کسی وجہ کے ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کرکے بے روزگار کر رہے ہیں، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔
انہوں نے گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، سیکرٹری اطلاعات اور ڈائریکٹر تعلقات عامہ حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے اخبارات، خصوصاً روزنامہ زمانہ کی جانب سے ملازمین کو بے روزگار کرنے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے برطرف ملازمین کو دوبارہ ملازمتوں پر بحال کرانے کے لیے اقدامات کیے جائیں، تاکہ ان ملازمین کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے سے بچ سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اخبارات اور ٹی وی چینلز سے ملازمین کو نکالنے کے سلسلے کو روکنے کے لیے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا جائے گا، تاکہ اخبارات کے ملازمین کو بے روزگاری سے بچایا جا سکے۔

