ماحولیاتی تحفظ کے لیے افسران اپنی کارکردگی مزید بہتر بنائیں، غیر حاضری پر زیرو ٹالرنس ہوگی: سیکرٹری ماحولیات نور احمد پرکانی
بلوچستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (بیپا) کی مجموعی کارکردگی، ریونیو اہداف، ترقیوں، خالی آسامیوں، IEE/EIA/EMP فیس، لیبارٹریز، PSDP اسکیموں، ضلعی کارکردگی، قانونی مقدمات اور آگاہی سرگرمیوں کا جائزہ
کوئٹہ: محکمہ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، حکومتِ بلوچستان کے زیرِ اہتمام بلوچستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (بیپا) کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس سیکرٹری ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی نور احمد پرکانی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری محمد یونس مینگل، ڈائریکٹر جنرل بیپا ظہور احمد، ڈائریکٹر ایڈمن محمد علی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں ریونیو اہداف، IEE/EIA/EMP فیس وصولی، ترقیوں کے کیسز، اسٹافنگ و خالی آسامیوں، ڈیتھ کوٹہ، افسران و ملازمین کی حاضری و لوکیشن رپورٹنگ، لیبارٹریز و مانیٹرنگ آلات، ماحولیاتی یونٹس، PSDP اسکیموں، ایک سالہ ضلعی کارکردگی، قانونی مقدمات، آگاہی سرگرمیوں اور ٹورازم انوائرنمنٹل ایڈوائزری سمیت مختلف امور پر بریفنگ دی گئی۔
سیکرٹری نور احمد پرکانی نے ہدایت کی کہ افسران و ملازمین کی روزانہ حاضری ہر صورت یقینی بنائی جائے اور غیر حاضری پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔ اجلاس کے دوران مختلف اضلاع کے افسران سے براہِ راست رابطہ کر کے ان کی جائے تعیناتی اور عملی کارکردگی کی تصدیق کی گئی۔ ڈیوٹی سے غیر حاضر پائے جانے والے ایک افسر کو فوری معطل کر کے انکوائری کا حکم دیا گیا، جبکہ جائے تعیناتی پر موجود رہ کر فرائض انجام دینے والے افسر کی کارکردگی کو سراہا گیا۔
انہوں نے ماحولیاتی سیمپلنگ کے مقررہ پروٹوکول پر سختی سے عملدرآمد، لیبارٹریز اور مانیٹرنگ آلات کو مکمل فعال رکھنے اور بغیر پروٹوکول سیمپلنگ کی صورت میں ذمہ دار افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی ہدایت کی۔ تمام ضلعی سربراہان کو متعلقہ ڈپٹی کمشنرز سے مؤثر رابطہ رکھنے، کھلی کچہریوں کے انعقاد اور ان میں شرکت کو یقینی بنانے سمیت عوامی و ماحولیاتی شکایات پر فوری کارروائی کا پابند کیا گیا۔
اجلاس میں بیپا کی فیلڈ انسپیکشنز، ممنوعہ پلاسٹک کے خلاف کارروائیوں، ہسپتال ویسٹ مانیٹرنگ، صنعتی و تجارتی یونٹس کی نگرانی اور ماحولیاتی منظوریوں کے عمل کا جائزہ لیا گیا۔ کوئٹہ اور ملحقہ انفورسمنٹ علاقوں میں 852 قابلِ نگرانی/ریگولیٹڈ یونٹس کی نشاندہی کو آئندہ کے فیلڈ معائنے اور انفورسمنٹ پلاننگ کی بنیاد قرار دیا گیا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں غیر قانونی کرش پلانٹس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز و اسسٹنٹ کمشنرز کے باہمی تعاون سے ان کی منتقلی، سیلنگ اور ضرورت کے مطابق مسماری (Dismantling) کے اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
سیکرٹری نے ملازمین کے پنشن، GPF اور ریٹائرمنٹ کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ کوئی بھی معاملہ غیر ضروری طور پر زیرِ التوا نہ رہے اور تمام سروس بکس مکمل و اپ ڈیٹ رکھی جائیں۔ ڈی جی بیپا کی جانب سے جاری خطوط کے بروقت جوابات، فالو اَپ اور ریمائنڈرز کو بھی لازمی قرار دیا گیا۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ڈیتھ کوٹہ کے تحت دستیاب تمام 08 آسامیوں پر شفاف تقرری کا عمل مکمل کر کے انہیں پُر کر دیا گیا ہے۔ محکمانہ ترقیوں کے زیرِ عمل کیسز اور خالی آسامیوں کو مروجہ قواعد و ضوابط اور مجاز فورمز کے ذریعے بر وقت نمٹانے پر بھی زور دیا گیا۔
ماحولیاتی آگاہی کے حوالے سے متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پرائمری اور مڈل سطح کے لیے ماحولیات سے متعلق نصابی کتب تیار کی جائیں گی، جبکہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی سطح پر ماحولیاتی اثرات اور تحفظ سے متعلق مخصوص اسباق شامل کیے جائیں گے۔ ڈائریکٹر جنرل بیپا کی توثیق کے بعد افسران پر مشتمل پینل نصابی مواد کے باقاعدہ مسودے تیار کرے گا۔
ٹورازم انوائرنمنٹل ایڈوائزری پر غور کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ ثقافت، سیاحت و آرکائیوز سے بلوچستان کے اہم و ترجیحی سیاحتی مقامات کی تازہ ترین فہرست طلب کی جائے، تاکہ بیپا ان مقامات کے لیے ماحولیاتی انسپیکشن، اسکریننگ، مانیٹرنگ اور مرحلہ وار ایکشن پلان مرتب کر سکے۔
سیکرٹری ماحولیات نے کہا کہ بیپا کو اپنے قانونی مینڈیٹ کی پاسداری، عوامی شکایات کے ازالے اور ماحولیاتی قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے مزید فعال، جوابدہ اور فیلڈ پر مبنی ادارہ بنایا جائے گا، جبکہ ضلعی کارکردگی، مانیٹرنگ اور فالو اَپ کا یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔

