تعلیمی دروازہ ہمیشہ کے لئے بند زمہ دار کون ؟؟؟
تحریر میر جان
●400 کے قریب طلباء اور طالبات کا مستقبل کس کے انتظار میں ہے ؟؟
●ہر صبح پوگی زباد اور اس کے ساتھ ملحقہ آٹھ دیہاتوں کے بچے اور بچیاں بستے اٹھا کر گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول پوگی زباد گریشہ نال ضلع خضدار کا رخ کرتے ہیں۔ ان سب کی آنکھوں میں ایک ہی خواب ہوتا ہے۔ پڑھ لکھ کر اپنا اور اپنے خاندان کے لئے بہتر اور پڑھا لکھا مستقبل بنانا۔ مگر اس خواب کی ایک حد اور سرکاری لکیر مقرر ہے ۔ وہ حد اور لکیر آٹھویں جماعت پاس ہے ۔ آگے کا تعلیمی راستہ ہمیشہ کے لیئے بند ؟
●اگرچہ آٹھویں جماعت کے بعد اسکول کی عمارت تو وہی رہتی ہے کتابیں بھی موجود ہیں بچے اور بچیاں پڑھنا چاہتی ہیں ۔ مگر ان کی تعلیم کیلئے اگلا قدم تقریباً 20 کلومیٹر سے زیادہ دور ہے۔
ادارہ ھزا میں اس وقت 400 کے قریب طلباء اور طالبات زیر تعلیم ہیں۔ یہ 400 کے قریب طلباء اور طالبات محض ایک سرکاری اسکول کے رجسٹر میں درج تعداد نہیں یہ چار سو کے قریب خواب ہیں والدین کی امیدیں ہیں۔ سینکڑوں خاندانوں کی بہتر کل ہیں۔ اپنے خواب اور امیدوں کو حاصل کرنے کے لیے روزانہ کئی کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے۔
●آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد ؟؟
پوگی زباد اور اس سے ملحقہ دیہاتوں کے بچے اور بچیاں آٹھویں جماعت پاس کرنا ان کی تعلیم کا وہ اختتامی سیڑھی ہے جہاں سے مشکلات شروع ہوتی ہیں۔ ہائی سیکشن میں پڑھنے کے لئے ان کو روزانہ کئی کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے۔ ایک بالغ شخص کے لئے شاید یہ فاصلہ معمولی محسوس ہو ۔ مگر کم عمر بچوں کےلئے خاص طور پر بچیوں کے روزانہ 40 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ اتنا آسان نہیں۔ کیونکہ ان بچوں کے لیے امدورفت کے محدود ذرائع ہیں دور کا فاصلہ مہنگائی بے روزگاری اور اضافی اخراجات والدین کی معاشی مشکلات اس طویل سفر کو مزید دشوار بنا دیتی ہیں۔
آخر کار وہ لمحہ آتا ہے جب ایک بچہ اور ایک بچی کے ہاتھ میں موجود کتاب ہمیشہ کے لیئے بند ہو جاتی ہے ۔ کسی کا بیٹا گھر بیٹھ جاتا ہے تو کسی کی بیٹی تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ ان بچے اور بچیوں کا خواب صرف اس لئے ادھورا رہ جاتا ہے کیونکہ ان کے گاؤں میں یا ان کے آس پاس کوئی بھی سرکاری یا غیر سرکاری ہائی اسکول موجود نہیں ہے۔
✍️400 کے قریب طلباء اور طالبات ایک سوال؟؟؟
یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب اتنی بڑی تعداد طلباء اور طالبات علم حاصل کر رہے ہیں تو اسے ہائی کا درجہ دینے میں رکاوٹ کیا ہے اور کون ہے ؟؟
✍️اہل علاقہ کے مطابق اسکول میں طلباء اور طالبات کی تعداد کافی عرصے سے قابل ذکر ہے مگر اس کے باوجود اسکول کو ہائی تک اپگریڈ نہیں کیا گیا۔
اگر سرکاری ریکارڈ اور زمینی حقائق میں واقعی کوئی فرق ہے تو سوال صرف ایک اسکول کی اپگریڈیشن کا نہیں بلکہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کی تعلیمی منصوبہ بندی کے لئے استعمال ہونے والے اعدادوشمار کتنے درست ہیں ؟؟؟
اس طرح کی صورتحال کی سب سے بھاری قیمت وہ سینکڑوں خاندان ادا کرتے ہیں جن کے بچے مزید پڑھنا چاہتے ہیں مگر ان کی بچوں کی پہنچ ہائی اسکول تک نہیں۔ ان کی معاشی حالات اور موجودہ زمینی حقائق دور دراز کا فاصلہ امدورفت کے محدود ذرائع آخر کار ان کے بچوں سے کتاب چھین لیتی ہے۔
لہزا ہم اہلیان پوگی زباد اور اسکول سے ملحقہ دیہاتوں کی علم دوست عوام علاقہ کے ایم پی اے جناب یونس عزیز زہری صاحب جناب ڈپٹی کمشنر خضدار عبدالرزاق ساسولی صاحب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جناب نیازاللہ سمالانی صاحب ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن جناب رائیس علی احمد صاحب اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نال جناب سمیع اللہ صاحب سے اپیل کرتے ہیں ہماری مجبوریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے گورنمنٹ بوائز مڈل اسکول پوگی زباد گریشہ نال ضلع خضدار کو ہائی کا درجہ دیا جائے تاکہ ہمارے بچے اپنی تعلیم مزید جاری رکھ سکیں۔

