آج نہ صرف والدِ محترم سردار عطاء اللہ مینگل کی پانچویں برسی منائی جا رہی ہے بلکہ دل ایک اور المناک واقعے کی یاد سے بھی بوجھل ہے۔سرداراخترمینگل
گزشتہ سال 2 ستمبر کو اُن کی چوتھی برسی کے سلسلے میں شاہوانی اسٹیڈیم، سریاب روڈ کوئٹہ میں منعقدہ جلسے کے دوران ہونے والے خودکش بم دھماکے میں اُن کے چاہنے والے اور پیروکار شہید ہوئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔
آج اس سانحے کو ایک سال گزر چکا ہے۔ ریاست اور ریاستی ادارے ہر موقع پر یہ دعوے کرتے نہیں تھکتے کہ سیکیورٹی اور خفیہ اداروں نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا، دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے اور دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔
تو کیا ہم، اور اُن شہداء کے لواحقین، یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ شاہوانی اسٹیڈیم کے سانحے کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے تھے؟ ایک سال گزرنے کے باوجود اصل مجرموں اور اُن کے سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے کیا پیش رفت ہوئی؟ تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟ اور کیا اس سانحے کے ذمہ داروں کو بھی انجام تک پہنچایا گیا، یا یہ معاملہ بھی فائلوں اور بیانات کے درمیان کہیں دفن ہو گیا؟
مگر سوال یہ ہے کہ ہم پوچھیں بھی تو کس سے؟
ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کے وارثوں سے؟ یا جنرل ضیاء الحق اور لیاقت علی خان کے وارثوں سے؟
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

