Ultimate magazine theme for WordPress.
Ads side
Ads side

ایک سردار جو سرداری سے بھی بڑا، ایک عہد، ایک مزاحمت اور ایک ایسا سوال جو آج بھی زندہ ہے” 

تحریر: شفیق الرحمن ساسولی


دنیا کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی گزری ہیں جنہیں صرف عہدوں، وزارتوں یا سیاسی جماعتوں کے حوالے سے یاد کرنا ان کے ساتھ انصاف نہیں۔ وہ لوگ اپنے زمانے سے بڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کی زندگی میں ایک پورا عہد سانس لیتا ہے۔ ان کے ساتھ صرف واقعات وابستہ نہیں ہوتے بلکہ روایات، سیاسی کشمکش، قومی سوال، ذاتی و قومی دکھ، جیلیں، جلاوطنیاں اور آنے والی نسلوں کے لیے جہد اور چھوڑے گئے سوالات بھی وابستہ ہوتے ہیں۔ سردار عطاء اللہ خان مینگل بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔ وہ بلوچستان کے پہلے وزیراعلیٰ تھے، قبائلی سردار تھے، نیشنل عوامی پارٹی کے اہم بانی رہنمائوں میں سے تھے، بی این پی کے بانی تھے۔ ریاستی جبر کے خلاف طویل سیاسی مزاحمت کا حصہ رہے، جیل گئے، جلاوطنی اختیار کی، اپنے بیٹے اسد مینگل کے لاپتہ ہونے کا صدمہ اٹھایا اور عمر کے آخری حصے تک بلوچستان کے سیاسی سوال کو اپنی زندگی کا مرکزی مسئلہ بنائے رکھا۔ ان کا انتقال 2 ستمبر 2021 کو کراچی میں 92 برس کی عمر میں ہوا اور انہیں ان کے آبائی علاقے وڈھ میں انکے وصیت کے عین مطابق خان ء نا خت کے مقام پر سپردِ خاک کیا گیا۔

مگر راہشون عطاء اللہ مینگل کو سمجھنے کے لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ وہ بلوچ قوم پرست رہنما تھے۔ یہ ان کی شخصیت کا ایک حصہ ہے پوری تصویر نہیں۔ ان کی سیاست میں حقیقی قبائلی روایات، جدید سیاسی شعور، صوبائی خودمختاری، وفاقی ڈھانچے کی تنقید، جمہوریت، پارلیمانی سیاست اور بالآخر ریاستی مرکزیت سے شدید اختلاف، سب ایک دوسرے میں پیوست نظر آتے ہیں۔

🌎وڈھ سے کراچی تک:

سردار عطاء اللہ مینگل 13 جنوری 1930 کو وڈھ میں پیدا ہوئے۔ ان کا ابتدائی زمانہ لسبیلہ اور کراچی میں گزرا۔ انہوں نے سندھ مدرسۃ الاسلام اور ایچی سن کالج میں تعلیم حاصل کی۔ 1954 میں انہیں مینگل قبیلے کا سردار تسلیم کیا گیا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب بلوچستان ابھی موجودہ معنوں میں ایک صوبہ نہیں تھا اور ریاستی ڈھانچہ بھی آج کے پاکستان سے مختلف تھا۔ سردار عطاء اللہ مینگل کا سیاسی شعور محض قبائلی منصب سے نہیں بنا۔ والد کے علاقہ بدری اور باہر رہائش اور تعلیم نے انہیں اس مختلف تلخ تجربات اور مختلف سیاسی ماحول سے جوڑا جہاں پاکستان کی نئی ریاست، وفاق، صوبائی شناخت اور جمہوریت کے سوال زیر بحث تھے۔

ان کی سیاست میں میر غوث بخش بزنجو کا کردار بنیادی تھا۔ بزنجو نے انہیں باقاعدہ انتخابی سیاست میں آنے پر قائل کیا۔ 1962 میں وہ مغربی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

یہاں سے ایک اہم تبدیلی شروع ہوئی: ایک قبائلی سردار آہستہ آہستہ ایک ایسے سیاست دان میں تبدیل ہونے لگا جس کی گفتگو کا مرکز صرف مینگل قبیلہ یا بلوچ قوم ہی نہیں بلکہ پورا بلوچستان اور پھر پاکستان بھر کے مظلوم قومیتوں کے حقوق بن گئے۔

🌎ون یونٹ کے خلاف آواز:

سردار عطاء اللہ مینگل کے سیاسی سفر کا سب سے اہم ابتدائی مرحلہ ایوب خان کا دور تھا۔ ون یونٹ کے خلاف ان کا موقف محض انتخابی نعرہ نہیں تھا۔ وہ اس نظام کو چھوٹی قومیتوں کی سیاسی شناخت اور صوبائی اختیار کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ 1962 میں کراچی کے کاکڑی گراؤنڈ میں ان کی تقریر نے بلوچ قوم کی سیاسی راہ کو منظرنامے میں مزید نمایاں کیا ۔ وہ اس وقت مغربی پاکستان اسمبلی کے منتخب رکن تھے۔ اس تقریر کے بعد ان کی گرفتاری ہوئی۔

یہ واقعہ ان کی سیاست کی ایک بنیادی خصوصیت واضح کرتا ہےکہ وہ اقتدار کے اندر رہ کر اقتدار کے بنیادی ڈھانچے پر سوال اٹھانے سے نہیں گھبراتے تھے۔ بعد کے برسوں میں یہی رویہ ان کی سیاسی شناخت بن گیا۔ ان کے نزدیک مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ بلوچستان کو کتنے فنڈز ملتے ہیں۔ سوال یہ تھا کہ بلوچستان کے لوگ اپنے سیاسی، معاشی اور قدرتی وسائل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا کتنا اختیار رکھتے ہیں۔

🌎 1972: بلوچستان کا پہلا منتخب وزیراعلیٰ:

1970 کے انتخابات کے بعد پاکستان ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہوا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے ریاست کے اندر وفاق اور قومیتوں کے تعلق کو پہلے سے کہیں زیادہ حساس بنا دیا تھا۔ بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کے اتحاد نے صوبائی اسمبلی میں اکثریت حاصل کی۔ چنانچہ مئی 1972 میں سردار عطاء اللہ مینگل بلوچستان کے پہلے وزیراعلیٰ بنے جبکہ میر غوث بخش بزنجو گورنر مقرر ہوئے۔ یہ حکومت غیر معمولی حالات میں قائم ہوئی تھی۔ مرکز میں ذوالفقار علی بھٹو تھے، گورنر ہاؤس میں بزنجو تھے اور صوبائی حکومت میں سردار عطاء اللہ مینگل۔

گوکہ سردار عطاء اللہ مینگل کی حکومت کا دور بہت مختصر تھا لیکن اس مختصر مدت میں حکومت نے پولیس کے نئے انتظام، ٹیکس اصلاحات، اظہارِ رائے و پریس کی آزادی اور یونیورسٹیز، میڈیکل کالج کا قیام جیسے معاملات پر کام کیا۔ ان کی حکومت نے قبائلی سرداری جرگہ اور زمین کے نظام میں اصلاحات کی سمت بھی قدم اٹھایا۔ صوبائی اسمبلی میں سرداری نظام کے خاتمے اور زرعی اصلاحات کے حوالے سے قرارداد منظور ہوئی، اگرچہ وہ قانون کی شکل اختیار نہ کرسکی۔

یہ پہلو عطاء اللہ مینگل کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہے۔ ایک طرف وہ خود ایک بڑے قبیلے کے سردار تھے، دوسری طرف وہ سرداری نظام کی بالادستی ختم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہی بات ان کی سیاست کو دلچسپ بناتا ہے۔ وہ اپنی حقیقی قبائلی شناخت سے فرار نہیں ہوئے مگر وہ فرسودہ سرداری نظام کو ختم کرنے کے خواہاں تھے۔ انہوں نے اسے جدید سیاسی اختیار کا واحد جواز بھی نہیں بنایا۔

🌎 وفاق اور بلوچستان کا ٹوٹتا ہوا اعتماد:

سردار عطاء اللہ مینگل کی حکومت کا خاتمہ محض ایک صوبائی حکومت کا خاتمہ نہیں تھا۔ یہ وفاق اور بلوچستان کے تعلق میں ایک بڑے بحران کا آغاز تھا۔

فروری 1973 میں بھٹو حکومت نے بلوچستان کی منتخب حکومت برطرف کردی۔ اس اقدام کا جواز امن و امان، مبینہ سازش اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے متعلق الزامات تھے۔

اس کے بعد بلوچستان میں مسلح بغاوت اور فوجی کارروائیوں کا ایک اور طویل دور شروع ہوا۔ میر غوث بخش بزنجو، سردار عطاء اللہ مینگل اور نواب خیر بخش مری سمیت نیشنل عوامی پارٹی کے اہم رہنما گرفتار ہوئے۔ 1973 سے 1977 تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح مزاحمت جاری رہی۔

یہاں تاریخ کا ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا بلوچستان کا بحران ریاست مخالف سازش کا نتیجہ تھا یا سیاسی اختیار کے سوال کو طاقت کے ذریعے دبانے کا نتیجہ؟

سردار عطاء اللہ مینگل کی پوری سیاسی زندگی کا جواب واضح ہے کہ وہ کس مؤقف کے قریب تھا۔ اور ریاست نے سیاست کو کس حد پنپنے کا موقع دیا یا نہیں؟ لیکن ایک حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ 1972 کی منتخب صوبائی حکومت کی برطرفی نے بلوچستان اور مرکز کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔

🌎 جیل، حیدرآباد سازش کیس اور ایک خاندانی سانحہ:

1975 میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد ہوئی اور اس کے متعدد مرکزی رہنماؤں کے خلاف حیدرآباد سازش کیس قائم کیا گیا۔ سردار عطاء اللہ مینگل بھی گرفتار رہنماؤں میں شامل تھے۔ یہ مقدمہ کئی برس تک چلتا رہا اور 1977 میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد اس کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی۔ لیکن قید کا سب سے بڑا امتحان سیاسی کے ساتھ ساتھ ذاتی بھی تھا۔ اسی عرصے میں ان کے نوجوان بیٹے اسد اللہ مینگل کو احمد شاہ بلوچ کے ساتھ لاپتہ کردیا گیا۔ اسد مینگل بلوچستان کے باقاعدہ پہلے جبری گمشدہ فرد بن گئے اور آج تک پھر کبھی واپس نہیں لائے گئے۔ سردار عطاء اللہ مینگل کے لیے یہ سانحہ صرف ایک باپ کا ذاتی خاندانی المیہ نہیں رہا بلکہ بلوچستان کے سیاسی حافظے کا حصہ بن گیا۔ قید کے دوران جب انہیں اپنے بیٹے کے لاپتہ ہونے کی خبر ملی تو انہوں نے اس واقعے کو اپنی ذات تک محدود کرنے کے بجائے اسے بلوچستان کے ہر نوجوان کے دکھ سے جوڑ دیا۔ اس واقعے نے ان کی سیاست کے مزاج کو شاید سب سے زیادہ واضح کیا۔ وہ شخص جو ریاستی طاقت کے سامنے سیاسی طور پر پہلے ہی کھڑا تھا، اب اس کے پاس ذاتی انتقام کی بھی ایک وجہ موجود تھی مگر ان کی بعد کی سیاست میں اس سانحے کو محض انتقام کے نعرے میں تبدیل کرنے کے بجائے قومی اور سیاسی مسئلے کے طور پر پیش کیا گیا۔

🌎 جلاوطنی: بلوچستان سے دور اور بلوچستان کے ساتھ:

رہائی کے بعد سردار عطاء اللہ مینگل علاج اور پھر طویل عرصے کے لیے بیرون ملک چلے گئے۔ لندن ان کی جلاوطنی کا مرکزی مقام بنا۔

جلاوطنی اکثر سیاست دان کو اس کی زمین سے کاٹ دیتی ہے مگر سردار عطاء اللہ مینگل کے معاملے میں یہ دور سیاسی سرگرمی سے مکمل انقطاع نہیں تھا۔ لندن میں انہوں نے بلوچ سیاسی کارکنوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا اور ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن کے قیام کے سلسلے میں کردار ادا کیا۔ اسی دور میں ان کی سیاست کا دائرہ مزید وسیع ہوا۔ اب مسئلہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں رہا تھا۔ وہ سندھی، بلوچ اور پشتون سمیت مختلف مظلوم و محکوم قومیتوں کے درمیان سیاسی تعاون کے حامی بنے۔ بعد میں یہی سوچ مختلف قومیتی اتحادوں اور پونم جیسے پلیٹ فارموں میں نظر آئی۔

یہاں سردار عطاء اللہ مینگل کی سیاست کا ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے کہ وہ بلوچ حقوق کو پاکستان کے اندر موجود دوسری قومیتوں کے حقوق سے الگ نہیں دیکھتے تھے۔ ان کے نزدیک مرکزیت کا مسئلہ صرف بلوچوں کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ وفاق میں طاقت کی غیر مساوی تقسیم کا مسئلہ تھا۔

🌎 بزنجو، مری اور بگٹی: رفاقت، اختلاف اور بدلتے اتحاد:

بلوچستان کی سیاست کو سردار عطاء اللہ مینگل کے بغیر سمجھنا مشکل ہے لیکن سردار عطاء اللہ مینگل کو بھی ان کے سیاسی ہم عصروں سے الگ کرکے نہیں سمجھا جاسکتا۔

میر غوث بخش بزنجو ان کے ابتدائی سیاسی سنگت اور طویل عرصے کے ساتھی تھے۔ نواب خیر بخش مری کے ساتھ ان کی سیاسی قربت بھی بلوچ قوم پرست سیاست کی تاریخ کا اہم باب ہے۔ بعد کے زمانے میں نواب بگٹی کے ساتھ بھی سیاسی اتحاد اور اختلاف کے مختلف ادوار آئے۔

یہ تعلقات کبھی نظریاتی رفاقت میں بدلتے، کبھی انتخابی حوالے سے متصادم ہوتے اور کبھی سیاسی اختلافات کی وجہ سے ٹوٹ جاتے۔

1988 کے انتخابات کے دوران سردار عطاء اللہ مینگل اور نواب اکبر خان بگٹی کے سیاسی تعاون نے بلوچ قوم پرست حلقوں میں ایک نئی صف بندی پیدا کی۔ اور اس وقت میر غوث بخش بزنجو سے سیاسی ہمسفری منقطع رہی۔

یہ بات اس لیے اہم ہے کہ کوئی بھی لیڈر ہمہ وقت سب کے ساتھ متفق یا مخالفت میں نہیں رہتا بلکہ اپنے سیاسی حکمت عملی کی بنیاد پر کبھی اپنے قریبی ساتھیوں سے بھی اختلاف رکھتاہے۔ اس لئے یہ نہیں کہاجاسکتاکہ سردار عطاء اللہ مینگل کی سیاست میں کبھی تبدیلی یا اختلاف نہیں آیا۔ وہ اصولوں پر سخت تھے مگر سیاست میں تعلقات اور حکمت عملی کے سوالات بھی ان کے سفر کا حصہ رہے۔

🌎 1989 واپسی:

میر غوث بخش بزنجو کی وفات کے وقت سردار عطاء اللہ مینگل کو دوبارہ وطن آئے۔ اگست 1989 میں خضدار ایئرپورٹ سے براہ راست نال گئے، جہاں میر غوث بخش بزنجو کے آبائی علاقے میں فاتحہ خوانی کی۔ ان کی واپسی پر بلوچستان میں عوامی استقبال اس بات کی علامت تھا کہ برسوں کی جلاوطنی نے ان کے سیاسی اثر کو ختم نہیں کیا تھا۔

یہاں سے ان کی سیاست کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا۔ اب وہ نوجوانوں کی سیاست کو قریب سے دیکھ رہے تھے، نئی بلوچ تنظیموں کے ساتھ رابطے میں تھے اور اپنے فرزند اختر جان مینگل سمیت نئی نسل کو سیاسی میدان میں آگے آتے دیکھ رہے تھے۔

1987 میں بننے والی بلوچستان نیشنل یوتھ موومنٹ کو ان کی حمایت حاصل ہوئی اور بعد میں ان کی کاوشوں سے بلوچستان نیشنل پارٹی کا قیام ہوا۔ انکے فرزند اقر نوجوان قوم پرست قیادت نے اس سیاست کو آگے بڑھایا۔

🌎 سیاست کا آخری بڑا سوال:

عطاء اللہ مینگل کی سیاست کا بنیادی لفظ “اختیار” تھا۔

ان کی متعدد گفتگوؤں اور انٹرویوز میں صوبائی خودمختاری کا مطالبہ بار بار سامنے آتا ہے۔ 2006 کے ایک انٹرویو میں انہوں نے بلوچستان کے مسئلے کو وسائل، سیاسی اختیار اور ریاستی پالیسی سے جوڑا اور خبردار کیا کہ طاقت کے استعمال سے بلوچوں کو وفاق سے دور دھکیلا جارہا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سردار عطاء اللہ مینگل کو محض ایک روایتی قوم پرست سردار سمجھنا غلط ہوجاتا ہے۔ ان کے سیاسی سوال کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ وفاق کس بنیاد پر قائم رہے گا؟ کیا وفاق مضبوط مرکز کے ذریعے قائم رہ سکتا ہے یا اس کے لیے صوبوں کو حقیقی سیاسی اور معاشی اختیار دینا ضروری ہے؟

وہ سمجھتے تھے کہ وسائل پر مقامی اختیار، سیاسی نمائندگی، آئینی ضمانت اور جمہوری فیصلہ سازی کے بغیر بلوچستان میں اعتماد پیدا نہیں ہوسکتا۔

🌎ان کی شخصیت کا اہم رخ:

سردار عطاء اللہ مینگل کے سیاسی مخالفین بھی اکثر ان کی ذاتی شائستگی اور اصول پسندی کا ذکر کرتے رہے اور کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں ایک تحریر میں انہیں “نایاب نسل” کا سیاست دان قرار دیتے ہوئے ان کی شرافت، اصول پسندی اور ذاتی وقار کو نمایاں کیا گیاہے۔ وہ سیاسی اختلاف کو ذاتی بدسلوکی میں بدلنے کے قائل نہیں تھے۔ یہ پہلو اہم ہے کیونکہ ان کی سیاسی زبان سخت ضرور تھی مگر ان کی شخصیت کو محض اشتعال انگیز قوم پرستی سے تعبیر کرنا ان کے مزاج کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ وہ سخت سوال پوچھتے تھے، سخت موقف اختیار کرتے تھے مگر ان کے سیاسی مزاحمت میں سیاسی زبان، سیاسی اصطلاحات، سیاسی گفتگو، شائستگی سے پرے نہیں رہے۔

🌎 سردار، وزیراعلیٰ یا لیڈر؟

عطاء اللہ مینگل کی وفات کے بعد ان کے بارے میں مختلف سیاسی جماعتوں، قوم پرست رہنماؤں اور حتیٰ کہ ان کے سیاسی مخالفین کے تعزیتی بیانات میں ایک بات مشترک تھی: ان کی سیاست کو اصولی سیاست کہا گیا۔ انہیں صرف بلوچ قوم کا لیڈر نہیں بلکہ محکوم قومیتوں کے حقوق کی آواز قرار دیا گیا۔ وہ سردار بھی تھے اور سرداری نظام پر تنقید کرنے والے سیاست دان بھی۔ وہ پاکستان کے آئینی بندوبست کے اندر وزیراعلیٰ بھی بنے اور اسی ریاستی نظام کے سب سے سخت ناقدین میں بھی شمار ہوئے۔ وہ پارلیمانی سیاست کا حصہ بھی رہے، شدید اختلاف کی آواز بھی بنے۔ وہ میر غوث بخش بزنجو کے رفیق بھی رہے اور بعد کے سیاسی مرحلوں میں ان سے اختلاف بھی کیا۔ وہ نواب مری کے ساتھی بھی رہے اور ان کے ساتھ سیاسی حکمت عملی پر کئی مقامات ایک رہے۔ وہ نواب بگٹی کے ساتھ سیاسی صف بندی میں بھی آئے اور سیاست کے کچھ ادوار میں ان کے سیاسی حکمت عملی مختلف بھی رہے ۔

یہ حکمت عملی کی بناء پر کبھی کبھی مختلف فورمز پر نظر آنا انکی یا انکے ہم عصر سنگتوں کی کمزوری نہیں بلکہ سیاست دان کے طور پر حقیقت ہیں۔

🌎اصل وراثت کیا ہے؟

سردار عطاء اللہ مینگل کی سب سے بڑی میراث کوئی وزارت، اسمبلی کی نشست یا پارٹی کا عہدہ نہیں۔

📌ان کی اصل میراث ایک سوال ہے:

“ـ کیا پاکستان ایسا وفاق بن سکتا ہے جس میں بلوچستان اپنے سیاسی وجود، وسائل، شناخت اور اختیار کے بارے میں خود کو شریکِ اقتدار محسوس کرے؟ـ”

یہ سوال ان کی زندگی سے پہلے بھی موجود تھا اور ان کے بعد بھی باقی ہے۔

ان کے دور میں صوبائی خودمختاری کا سوال اٹھا تو حکومتیں بدل گئیں۔ بلوچستان کی منتخب حکومت ختم ہوئی تو مسلح تصادم شروع ہوا۔ رہنما جیل گئے، نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگی، حیدرآباد سازش کیس چلا، نسلیں گزریں، سیاسی اتحاد بدلے مگر بنیادی سوال اپنی جگہ رہا۔

اسی لیے سردار عطاء اللہ مینگل کی زندگی کو صرف ماضی کی ایک سیاسی داستان سمجھنا سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ وہ ایک ایسے دور میں سیاست میں آئے جہاں صوبائی شناخت ابھی مکمل طور پر مستحکم نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے ون یونٹ دیکھا، ایوب خان کی آمریت دیکھی، مشرقی پاکستان کی علیحدگی دیکھی، بلوچستان پر آپریشنز دیکھے، جیل دیکھی، جلاوطنی دیکھی، اپنے بیٹے کا غم دیکھا، دوبارہ واپسی دیکھی، نئی نسل کو سیاست میں آتے دیکھا اور پھر اپنی آنکھوں کے سامنے بلوچستان پر مظالم کو جاری و ساری دیکھا۔ اس طویل سفر میں ان کا موقف بدلنے کے بجائے اس کی انداز گفتگو اور گفتگو کے مقامات بدلتے رہے۔

کبھی وہ اسمبلی میں بولے۔

کبھی وزیراعلیٰ ہاؤس سے۔

کبھی جیل سے۔

کبھی لندن سے۔

کبھی ایک باپ کی حیثیت سے۔

اور کبھی ایک ایسے بزرگ سیاست دان و قومی لیڈر کی حیثیت سے جس نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں بھی یہ ماننے سے انکار کیا کہ بلوچستان کا مسئلہ طاقت کے ذریعے ختم کیا جاسکتا ہے۔

بہرحال: سردار عطاء اللہ مینگل کی تاریخ کو اگر صرف بلوچ قوم پرستی کے خانے میں بند کردیا جائے تو اس خطے میں مظلوم قومیتوں کی سیاست کا ایک بڑا باب چھوٹ جاتا ہے۔ اگر انہیں صرف قبائلی سردار کہا جائے تو ان کی جدید سیاسی فکر نظرانداز ہوجاتی ہے۔ اگر انہیں صرف پہلے وزیراعلیٰ کے طور پر یاد کیا جائے تو ان کی جیل، جلاوطنی اور طویل سیاسی جدوجہد پس منظر میں چلی جاتی ہے۔

بس سردار عطاء اللہ مینگل کو سمجھنے کا زیادہ درست طریقہ یہ ہے کہ انہیں ایک لیڈر کے طور پر دیکھا جائے جس نے اپنی پوری زندگی اقتدار حاصل کرنے سے زیادہ اختیار کی تعریف بدلنے میں صرف کی۔ وہ چاہتے تھے کہ بلوچستان کو صرف حکومت نہ دی جائے بلکہ اسے فیصلہ کرنے کا حق بھی دیا جائے۔ اسی لیے ان کی وفات کے بعد بھی ان کا نام ختم نہیں ہوا۔ کیونکہ بعض سیاسی شخصیات اپنی زندگی سے زیادہ اپنے سوالوں میں زندہ رہتی ہیں۔ سردار عطاء اللہ خان مینگل بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ ان کا عہد گزر گیا مگر بلوچستان اور وفاق کے درمیان اختیار، شناخت، وسائل اور اعتماد کا سوال ابھی باقی ہے۔

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.