Ultimate magazine theme for WordPress.
Ads side
Ads side

ہماری ریاست بلوچوں اور پشتونوں کا قتلِ عام کرنے میں جنگی اصولوں کا بھی خیال نہیں رکھتی، جب کہ جنگ میں صرف ان لوگوں سے لڑا جاتا ہے جو لوگ لڑتے ہیں

ہماری ریاست بلوچوں اور پشتونوں کا قتلِ عام کرنے میں جنگی اصولوں کا بھی خیال نہیں رکھتی، جب کہ جنگ میں صرف ان لوگوں سے لڑا جاتا ہے جو لوگ لڑتے ہیں۔ جو لوگ جنگ کا حصہ نہیں، مثلاً بوڑھے، خواتین، بچے یا وہ لوگ جو جنگ میں فریق نہیں ہیں، ان کو کچھ نہیں کہا جاتا، نہ فریقِ مخالف کے مال مویشی کو، نہ ان کے باغات کو کوئی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ جب کہ بلوچستان میں، خصوصاً کھڈکوچہ میں، لوگوں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ وہاں بوڑھے، خواتین، بچے، مال مویشی اور لوگوں کے باغات ریاست کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہیں ہیں، تو اس کو ظلم اور جبر ہی کہا جائے گا۔

لہٰذا حکومت ہوش کے ناخن لے، کھڈکوچہ کے لوگوں کے باغات اجاڑنے کی کوشش نہ کرے۔ حکومت کے اس طرح کے اقدامات سے لوگوں میں ریاست کے خلاف زیادہ نفرت بڑھ سکتی ہے۔

ہماری ریاست بلوچوں اور پشتونوں کا قتلِ عام کرنے میں جنگی اصولوں کا بھی خیال نہیں رکھتی، جب کہ جنگ میں صرف ان لوگوں سے لڑا جاتا ہے جو لوگ لڑتے ہیں۔ جو لوگ جنگ کا حصہ نہیں، مثلاً بوڑھے، خواتین، بچے یا وہ لوگ جو جنگ میں فریق نہیں ہیں، ان کو کچھ نہیں کہا جاتا، نہ فریقِ مخالف کے مال مویشی کو، نہ ان کے باغات کو کوئی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ جب کہ بلوچستان میں، خصوصاً کھڈکوچہ میں، لوگوں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ وہاں بوڑھے، خواتین، بچے، مال مویشی اور لوگوں کے باغات ریاست کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہیں ہیں، تو اس کو ظلم اور جبر ہی کہا جائے گا۔

لہٰذا حکومت ہوش کے ناخن لے، کھڈکوچہ کے لوگوں کے باغات اجاڑنے کی کوشش نہ کرے۔ حکومت کے اس طرح کے اقدامات سے لوگوں میں ریاست کے خلاف زیادہ نفرت بڑھ سکتی ہے۔

میں نواب شاہوانی کی قیادت میں قبائلی جرگے کی دی گئی تجاویز کی حمایت کرتا ہوں

مولانا عبدالغفور حیدری
مرکزی سیکرٹری جنرل جمعیت علماءاسلام پاکستان

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.