ایک معذور بلوچ شہری کی وزیراعلیٰ بلوچستان سے آخری اپیل: ایک کروڑ روپے کے علاج نے زندگی اور موت کے بیچ لا کھڑا کیا، کیا حکومت ایک غریب شہری کی جان بچانے کیلئے آگے بڑھے گی….؟
ایک معذور اور غریب شہری کی آخری اپیل
کیا اس ملک میں غریب کی کوئی نہیں سنتا؟
آج میں انتہائی دُکھ اور ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ یہ بات لکھ رہا ہوں۔ پچھلے کچھ مہینوں سے جب مجھے آسٹریلیا میں مقیم ایک پاکستانی ڈاکٹر کے توسط سے یہ یقین دھانی ھوئی کہ میرا علاج آسٹریلیا میں ایک سرجری کے زریعے ممکن ھے اس ڈاکٹر نے میرے لئیے میڈیکل ویزہ بھی بجھوایا اور وھاں پر پہنچنے کے بعد مدد کی مکمل یقین دھانی بھی کروائی ۔ مجھے صرف ھاسپٹل کے اور سفری اخراجات کے لیئے یہاں سے مطلوبہ رقم درکار ھے جو کہ کم و بیش ایک کروڑ سے ایک کروڑ پندرہ لاکھ تک بنتے ھے تب سے میں اپنے علاج کے لیئے مسلسل اپیلیں کر رہا ہوں، لیکن افسوس! نہ ہمارے حلقے کے MNA/MPA تک میری بات پہنچنے دی جا رہی ہے اور نہ ہی کوئی میری بات سننے کو تیار ھے۔
میرے چند سوالات ھے اس بے حس نظام سے:
کہ میں ایک غریب اور معذور شخص اپنے علاج کے لیئے آخر کہاں جاوں ؟
کیا میں اس ملک کا شہری نہیں ھوں کیا میں بلوچستان کا باشندہ نہیں ھوں کہ اپنے ہی وزیر اعلی اور نمائندوں سے ملاقات بھی ناممکن بنا دی گئی ھے؟
اگر چھ ماہ پہلے مجھے علاج کے لیئے سرکاری سطح پر فنڈز فراہم کیئے جاتے تو آج میں ویل چیئر کے بغیر ایک واکر کے سہارے اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑا ھوجاتا اور مستقبل قریب میں مکمل صحت بحال ھوتا ۔ مگر افسوس کہ کوئی سنتا نہیں ۔
عوام سے عاجزانہ التجا:
انسانیت کے ناطے اس پوسٹ کو ایک بار شیئر ضرور کر دیں!
شاید آپ کا ایک شیئر میری یہ آواز کسی رحم دل انسان، اعلیٰ حکام یا وزیراعلیٰ بلوچستان تک پہنچا دے، اور میرے علاج کا ذریعہ بن جائے۔
خدارا مجھ سمیت دیگر معذور بھائیوں کی آواز بنیں اور اسے شیئر کریں!


آپ یہ بھی پسند کریں
