جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بعض علاقوں میں ضلعی اور تحصیل ہیڈکوارٹرز کے تحفظ کے لیے حفاظتی انتظامات اور مورچے قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ دیہی اور دور دراز علاقوں کی صورتحال بھی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں صحافیوں اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنا چاہیے تاکہ زمینی حقائق واضح ہوسکیں۔ مولانا فضل الرحمان نے سوال کیا کہ جب گھر میں آگ لگی ہو تو اسے بجھانے کے بجائے گھر کی تقسیم پر بحث کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ پہلے مسائل کا حل اور امن ضروری ہے، صرف صوبے بنانے سے بنیادی مسائل ختم نہیں ہوں گے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بعض علاقوں میں ضلعی اور تحصیل ہیڈکوارٹرز کے تحفظ کے لیے حفاظتی انتظامات اور مورچے قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ دیہی اور دور دراز علاقوں کی صورتحال بھی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں صحافیوں اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنا چاہیے تاکہ زمینی حقائق واضح ہوسکیں۔
مولانا فضل الرحمان نے سوال کیا کہ جب گھر میں آگ لگی ہو تو اسے بجھانے کے بجائے گھر کی تقسیم پر بحث کرنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ پہلے مسائل کا حل اور امن ضروری ہے، صرف صوبے بنانے سے بنیادی مسائل ختم نہیں ہوں گے

