Ultimate magazine theme for WordPress.
Ads side
Ads side

استاد نور خان بزنجو کی یاد میں پروقار تعزیتی و خراجِ عقیدت تقریب، میر فدا حکیم رند کی شرکت

گوادر میں بلوچی زبان کے عظیم گلوکار، نامور فنکار اور ثقافتی ورثے کے امین استاد نور خان بزنجو کی یاد میں آر سی ڈی سی (RCDC) گوادر کے زیرِ اہتمام ایک پروقار تعزیتی و خراجِ عقیدت تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ادیبوں، شاعروں، فنکاروں، سیاسی و سماجی شخصیات، نوجوانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور استاد نور خان بزنجو کی فنی، ادبی اور ثقافتی خدمات کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔

تقریب میں معروف سیاسی و سماجی رہنما میر فدا حکیم رند نے خصوصی شرکت کرتے ہوئے کہا کہ استاد نور خان بزنجو صرف ایک گلوکار نہیں بلکہ بلوچی زبان، ثقافت اور روایات کے حقیقی سفیر تھے۔ انہوں نے اپنی منفرد آواز اور لازوال فن کے ذریعے بلوچی موسیقی کو عالمی سطح پر متعارف کرایا اور اپنی گائی ہوئی دھنوں کے ذریعے لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لی۔

میر فدا حکیم رند نے کہا کہ عظیم فنکار جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کا فن اور خدمات ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ استاد نور خان بزنجو کی آواز محبت، امن، ثقافتی ہم آہنگی اور بلوچی شناخت کی علامت تھی، یہی وجہ ہے کہ آج بھی انہیں بے پناہ محبت اور احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی شخصیات کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتی ہیں، اس لیے ان کے فن، خدمات اور ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے آر سی ڈی سی گوادر کی جانب سے اس شاندار تقریب کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی تقریبات نہ صرف عظیم فنکاروں کی خدمات کے اعتراف کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ نوجوان نسل کو اپنی زبان، ثقافت اور تہذیب سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے استاد نور خان بزنجو کی یاد میں بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچی زبان، موسیقی اور ثقافتی ورثے کے فروغ کے لیے ان کے مشن کو اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔

آپ یہ بھی پسند کریں
اپنی رائے دیں

Your email address will not be published.