کوئٹہ: ساجد ترین ایڈووکیٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک وقت تھا جب یہ کہا جاتا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ عوام کا نہیں بلکہ صرف تین سرداروں کا مسئلہ ہے، مگر آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ خواتین سے بھی خوف محسوس کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایک خاتون کو عمر بھر کی سزا دی جاتی ہے تو یہ ریاستی خوف کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلے بلوچستان کے حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں اور مسائل کے حل کے لیے مکالمہ، انصاف اور آئین کی بالادستی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
ساجد ترین ایڈووکیٹ نے مطالبہ کیا کہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو عوام میں مزید بے چینی پیدا کریں۔
ایک وقت تھا جب یہ کہا جاتا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ بلوچستان کے عوام کا نہیں بلکہ صرف تین سرداروں کا مسئلہ ہے، آج حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ آپ خواتین سے بھی خوفزدہ ہیں، اگر آپ ایک خاتون کو عمر بھر کی سزا دیتے ہیں تو یہ آپ کے خوف کا ثبوت ہے، ساجد ترین ایڈووکیٹ

