صدارتی جہاز ائیرفورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں نہیں جانتا کہ ان کے ساتھ معاہدہ کرنا واقعی فائدہ مند ہو گا یا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ میں نہیں جانتا کہ آیا وہ معاہدے کا احترام کریں گے یا نہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکہ ایران کے ساتھ ایک مکمل فوجی تنازع کی طرف واپس جا رہا ہے، تو انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا۔ لیکن ہم بہت جلد جیت جائیں گے۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ دہرایا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ میں فوجی اعتبار سے کامیاب ہو چکا ہے، اور مزید کہا کہ ایران کے پاس زیادہ کچھ باقی نہیں رہا اور وہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے بہت زیادہ خواہش مند ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع جنگ نہیں ہے، حقیقت میں اسے مکمل طور پر جنگ نہیں کہا جا سکتا، یہ ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے ہے، یہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے محروم کرنے کے لیے ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ پوری بات ایران سے جوہری ہتھیار لینے اور اسے اس قسم کے ہتھیار رکھنے کی اجازت نہ دینے کی ہے۔ اور ہر شخص کو ایسی بات پر خوش ہونا چاہئے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد ازاں یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ انہوں نے اپنے دورِ صدارت میں آٹھ جنگوں کا خاتمہ کیا ہے،ہم نے ایران کو بہت شدت سے نشانہ بنایا ہے اور میں یہاں آج یہ بات کہوں گا کہ ہم نے انہیں 20 گنا زیادہ طاقت سے جواب دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی وہ ہم پر حملہ کریں گے، ہم انہیں 20 گنا زیادہ طاقت اور شدت سے جواب دیں گے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ترکی میں ہونے والی نیٹو سربراہ کانفرنس سے واپسی کے دوران برطانیہ کے ملڈن ہال ایئر بیس پہنچے۔
ٹرمپ نے ایران میں امریکی فضائی حملوں کے دوبارہ شروع کیے جانے کے حوالے سے کوئی عوامی بیان نہیں دیا، انہوں نے وہاں موجود امریکی فوجی اہلکاروں سے ملاقات کی اور بعد ازاں وہ اپنے پرانے صدارتی طیارے ایئر فورس ون سے قطر کی جانب سے گزشتہ سال فراہم کیے گئے نئے طیارے میں منتقل ہو گئے۔

