ماشکیل : بلوچستان کے صحرائی اور انتہائی گرم علاقے ماشکیل میں ان دنوں شدید ترین گرمی نے معمولاتِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے جبکہ بجلی کی طویل اور مسلسل بندش نے عوام کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے درجہ حرارت تقریبا 48ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے باوجود کئی روز سے بجلی کی عدم فراہمی نے شہریوں کو شدید اذیت بے چینی اور پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے دن کے اوقات میں تپتی دھوپ نے لوگوں کے لیے گھروں میں رہنا بھی دشوار بنا دیا ہے جس کے باعث گھروں دکانوں اور دفاتر پر براہِ راست منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں پنکھے کولر فریج اور دیگر ضروری برقی آلات بند ہونے سے نہ صرف گھروں کا ماحول ناقابلِ برداشت ہو گیا ہے بلکہ اشیائے خورونوش کے خراب ہونے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے خاص طور پر وہ گھرانے جن میں چھوٹے بچے بزرگ مریض اور خواتین موجود ہیں شدید گرمی کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہے پانی کی قلت اور بجلی کی عدم دستیابی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے کئی ایریاز میں پانی کی فراہمی بھی بجلی سے منسلک ہونے کے باعث متاثر ہو رہی ہے جس سے روزمرہ کے معمولات بری طرح درہم برہم ہو گئے ہیں لوگ پینے کے پانی اور گھریلو ضروریات کے لیے بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہے ایسی شدید گرمی میں بجلی کی طویل بندش ہیٹ اسٹروک پانی کی کمی کمزوری بلڈ پریشر میں اتار چڑھا اور دیگر موسمی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے دوسری جانب بجلی کی بندش کے باعث گزشتہ کئی دنوں سے علاقے میں موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ ڈیٹا سروس بھی معطل ہے جس کے نتیجے میں عوام اپنے عزیز و اقارب سرکاری اداروں اور ہنگامی طبی سہولیات سے بروقت رابطہ کرنے سے محروم ہیں مواصلاتی نظام کی بندش نے طلبا کاروباری افراد سرکاری ملازمین اور عام شہریوں کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے جس سے پورا علاقہ عملی طور پر تنہائی کا شکار دکھائی دیتا ہے شدید گرمی بجلی کی عدم دستیابی اور مواصلاتی نظام کی بندش نے انہیں کربناک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہوتا رہے گا سماجی حلقوں نے حکومت بلوچستان کیسکو حکام ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ماشکیل میں بجلی کی فوری بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مثر اقدامات کیے جائیں متاثرہ لائنوں اور نظام کی فوری مرمت کی جائے اور بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مستقل حل تلاش کیا جائے تاکہ عوام کو اس شدید اذیت سے نجات مل سکے اور موبائل و انٹرنیٹ سروس بھی بحال ہو سکے۔

