نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز کے اطراف سیکیورٹی کو مزید مضبوط کرنا اور ضرورت پڑنے پر تہران پر دباؤ بڑھانا ہو سکتا ہے، بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق دونوں بحری جہاز خلیجِ عمان میں داخل ہوئے۔
یہ تعیناتی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں کے خدشات بڑھ رہے ہیں، عالمی سطح پر تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت دوبارہ شدت اختیار کر گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی ختم ہو چکی ہے، اگرچہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔
اس کے بعد امریکا نے ایران پر خطے میں 3 آئل ٹینکروں پر حملوں کا الزام عائد کیا اور ایرانی فوجی تنصیبات پر حملے کیے، جواباً ایران نے 2 روز قبل خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق بدھ اور جمعرات کو ایران کے 6 شہروں میں کیے گئے امریکی حملوں میں تقریباً 17 جاں بحق ہوئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے 20 سے زائد جنگی جہاز تعینات کر رکھے ہیں، بحری قوت میں اس اضافے کا مقصد خطے کی سلامتی کو فروغ دینا اور استحکام برقرار رکھنا ہے۔
جب سینٹ کام سے پوچھا گیا کہ آیا یہ تعیناتی ایران کی معیشت کو ماضی میں نقصان پہنچانے والی بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرنے سے متعلق ہے؟ تو اس نے آپریشنل معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم دونوں طیارہ بردار بحری جہاز ایران کے میزائلوں کی ممکنہ مار کی حدود میں دیکھے گئے، جس کے باعث ان کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔
فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے سینئر فیلو اور ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل مارک مونٹگمری نے نیویارک پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ افواج کی نقل و حرکت معمول کا حصہ ہوتی ہے، لیکن جب بحری جہازوں کو ناکہ بندی یا آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کی معاونت کے لیے تیار کیا جاتا ہے تو وہ عمومی طور پر ایرانی خطے کے زیادہ قریب آ جاتے ہیں۔
امریکی بحریہ کی موجودگی میں اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا کی توجہ آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر ہے تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جاسکے، جو نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر بھی ایک اہم معاملہ ہے۔
دوسری جانب قطر کا ایک وفد تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں گزشتہ روز ایران میں مذاکرات مکمل کر کے واپس روانہ ہو گیا جبکہ ایرانی حکام ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کے لیے آج عمان جائیں گے

