انٹرویو میں زیلنسکی سے پوچھا گیا کہ کیا ایران اپنے جہاز سے پر حملے کے بعد یوکرین پر براہِ راست حملہ کر سکتا ہے؟ اس کے جواب میں زیلنسکی نے کہا ہمیں محتاط رہنا ہوگا اور ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی کہ کوئی نیا محاذ نہ کھلے۔
ان کا کہنا تھا حقیقت یہ ہے کہ ایران اور شمالی کوریا نے پہلے ہی ہم پر حملہ کیا ہے، امید ہے کہ وہ اپنے حملے مزید نہیں بڑھائیں گے، لیکن ہمیں ہر صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
صدر زیلنسکی نے الزام عائد کیا کہ ایران پہلے ہی روس کو ہتھیار فراہم کرکے یوکرین کے خلاف جنگ میں شامل ہو چکا ہے، جنگ کے آغاز ہی سے ایران نے روس کو ہزاروں شاہد ڈرونز فراہم کیے، پھر ان کی تیاری کے لیے لائسنس بھی دیے۔

