ثقافت کسی بھی معاشرے، قوم یا خطے کی اجتماعی شناخت کا نام ہے۔ یہ دراصل طرزِ زندگی، رہن سہن، زبان، رسم و رواج، اقدار، فنونِ لطیفہ، روایات اور سوچ کے اس مجموعے کا نام ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔
پشتون ثقافت صدیوں پرانی روایات، اقدار، اخلاقی اصولوں، پشتونولی، ننگ اور سیالۍ پر مبنی ایک شاندار تہذیب کا نام ہے۔ پشتونولی کے تحت مہمان نوازی (ملمستیا)، ننگ و سیالي، جرگہ سسٹم (باہمی مشاورت، عدل اور انصاف) اور باہمی رواداری اس ثقافت کے حسین پہلو ہیں۔ یہ کلچر امن، محبت، بہادری اور انسانیت دوستی کا نام ہے، جو پشتون قوم کی اصل شناخت ہے۔
کسی بھی قوم کی بقا اور ترقی کے لیے اس کا کلچر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ثقافت صرف گیتوں یا ناچ گانوں کا نام نہیں، بلکہ یہ کسی قوم کی تاریخ، اس کی فکری میراث اور اس کی انفرادیت کا مظہر ہوتی ہے۔ پشتون ثقافت کے بے شمار پہلو ہیں۔ جب کوئی قوم اپنی ثقافت سے جڑی رہتی ہے تو اس کے اندر محبت، اتحاد اور یگانگت کو فروغ ملتا ہے اور آنے والی نسلیں اپنی تاریخی روایات اور اقدار سے روشناس رہتی ہیں۔
آج ہمارے معاشرے میں ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم محکومیت کے احساس اور مناسب تعلیم و شعور کی کمی کا شکار ہیں۔ بدقسمتی سے مختلف قوتوں نے مختلف طریقوں سے ہماری قوم میں منفی سوچ، جذباتیت اور عدم برداشت کو پروان چڑھایا ہے۔ میڈیا، تعلیمی نصاب اور بعض ثقافتی مظاہر کے ذریعے پشتون قوم میں انتہا پسندی اور منفی رویوں کو ہوا دی گئی ہے۔
ہماری اصل جدوجہد یہی ہونی چاہیے کہ ہم اپنی قوم کو تعلیم یافتہ، باشعور، پرامن، مثبت اور ترقی پسند بنائیں۔ اس مقصد کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ حالیہ دنوں میں پشتون ثقافت کے عالمی دن کے حوالے سے منعقد ہونے والے پروگراموں پر سوشل میڈیا میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اس کے جواب میں اکثر مترقی اور باشعور لوگ تو خاموش ہیں، لیکن بعض افراد کی جانب سے تنقید کرنے والوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔ حالانکہ بائیکاٹ یا دوری اختیار کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔
آج کل جو طبقہ کلچر ڈے اور اس سے متعلق پروگراموں پر شدید تنقید کر رہا ہے، درحقیقت اسے کلچر کے وسیع اور حقیقی مفہوم کا ادراک ہی نہیں۔ وہ ثقافت کو صرف پگڑی، اتنڑ یا چند روایتی علامتوں تک محدود سمجھتا ہے۔
اس غلط فہمی اور تنقید کے ذمہ دار ایک حد تک وہ پڑھے لکھے، باشعور اور دانشور لوگ بھی ہیں جو کلچر کی گہرائی اور اہمیت سے بخوبی واقف ہیں، لیکن انہوں نے اس پر کھل کر بات نہیں کی۔ انہوں نے بھی صرف اتنڑ، پگڑی اور چند میوزک پروگراموں پر اکتفا کیا۔ اگر ہمارے باشعور پشتون دانشور ہر سطح پر ثقافت کے حقیقی اور مثبت پہلوؤں پر سیمینارز اور آگاہی پروگرام منعقد کرتے تو اس غیر ضروری تنقید کا راستہ روکا جا سکتا تھا۔
اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ کمیونٹی اور علاقائی سطح پر علمی و فکری پروگراموں کا انعقاد کیا جائے تاکہ ہر فرد کو ثقافت کی اصل روح اور اس کی اہمیت کا ادراک ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے تعلیم یافتہ اور باشعور طبقے کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ کلچر ڈے صرف اتنڑ اور پگڑی تک محدود نہ رہے بلکہ اس کی فکری، سماجی اور تاریخی اہمیت بھی اجاگر ہو۔ جب قوم کو ثقافت کی اصل روح سمجھ آ جائے گی تو لوگ اسے دل سے قبول کریں گے۔
سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کام کرنے کی ضرورت
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ایسے تمام ثقافتی اور فکری پروگراموں کو کسی بھی سیاسی تنظیم کے نام یا جھنڈے تلے منانے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ معاشرے میں حقیقی محبت، بھائی چارے اور اتحاد کو فروغ مل سکے۔
جو لوگ تنقید کرنے والوں سے مکمل کنارہ کشی اختیار کرنے یا بائیکاٹ کا مشورہ دے رہے ہیں، انہیں اپنی اس سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ تنقید کرنے والے بھی ہمارے ہی معاشرے، کلچر اور وجود کا حصہ ہیں۔ ہمیں انہیں سمجھانا ہوگا کہ تنقید اس اصل ثقافت پر نہیں ہونی چاہیے جو ہماری تاریخ کا حصہ ہے، بلکہ تنقید ان رویوں اور اعمال پر ہونی چاہیے جو پشتون قوم کی ترقی میں رکاوٹ ہیں یا جو درحقیقت ہماری روایتی اقدار کا حصہ نہیں بلکہ بعد میں مسلط یا اپنائے گئے ہیں۔
مثال کے طور پر “ولور” ہماری ثقافت کا بنیادی حصہ نہیں، لیکن بہت سے علاقوں میں شادی کے موقع پر لڑکے والوں سے بڑی رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے، جو پشتون معاشرے کے لیے ایک ناسور بن چکا ہے۔ اگرچہ ہر علاقے میں ولور کا رواج نہیں، لیکن جن علاقوں میں یہ موجود ہے وہاں اس کے خاتمے کے لیے آواز اٹھانے اور عملی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اسی طرح ایک اور چیز جو پشتون ثقافت کا حصہ نہیں، لیکن بعض دور دراز علاقوں میں دیکھی جاتی ہے، وہ شٹل کاک برقع ہے، جو نیلے رنگ میں پنجرے نما شکل کا لباس ہوتا ہے۔ پشتون تاریخ اور ثقافت میں اس برقعے کا کوئی واضح تصور موجود نہیں۔ پشتون خواتین کا روایتی لباس کشیدہ کاری سے مزین ڈھیلا اور لمبا قمیص شلوار اور دوپٹہ ہے، جو ایک خاتون کی حیا اور ستر کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی خاتون کسی بھی قسم کا لباس پہننا چاہے تو یہ اس کا ذاتی حق ہے، لیکن شٹل کاک برقعے کو پشتون ثقافت کی نمائندہ علامت قرار دینا درست نہیں۔
تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ پشتون معاشرے میں خواتین کو جائیداد میں حصہ نہ دینا ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے۔ آج ایک پشتون عورت کے ساتھ ہونے والے بڑے مظالم میں سے ایک اسے اس کے قانونی اور شرعی حقِ وراثت سے محروم کرنا ہے۔ اگر واقعی کسی نے تنقید کرنی ہے، آواز اٹھانی ہے یا عملی کام کرنا ہے تو اسے خواتین کے جائیداد میں حق کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ جب ہر بہن کو اس کا حق ملے گا تو وہ معاشی طور پر مضبوط ہوگی، دوسروں پر انحصار کم ہوگا اور وہ معاشرے اور قوم کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکے گی۔
خواتین ہمارے معاشرے کا نصف حصہ ہیں۔ ان پر غیر ضروری تنقید کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ انہیں اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار حاصل ہونا چاہیے اور ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کیا جانا چاہیے۔
ایک اور مسئلہ جو اگرچہ پشتون معاشرے میں وسیع پیمانے پر نہیں، لیکن بعض علاقوں میں دیکھا جاتا ہے، وہ لڑکیوں کی جبری شادی ہے۔ ایسے معاملات میں لڑکی کی مرضی کے بغیر خاندان کے بزرگ اس کی شادی کا فیصلہ کر دیتے ہیں، جو قابلِ تنقید رویہ ہے۔ لڑکیوں کو یہ پورا حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے جیون ساتھی کے انتخاب میں اپنی رائے دیں۔ بے شک والدین اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے خواہاں ہوتے ہیں، لیکن باہمی مشاورت کے ذریعے لڑکی کو انتخاب اور انکار دونوں کا حق ملنا چاہیے۔ بہتر فیصلے ہمیشہ لڑکی اور والدین کی مشترکہ مشاورت سے ہی ممکن ہوتے ہیں۔
اس مقصد کے حصول کے لیے تمام باشعور اور تعلیم یافتہ پشتون مردوں اور خواتین کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس کے لیے معاشرے میں وسیع پیمانے پر آگاہی کی ضرورت ہے۔ قوم کی ایک بڑی تعداد اب بھی ثقافت کے اصل مفہوم اور مقصد سے ناواقف ہے۔ مزید علمی اور آگاہی پروگراموں کے انعقاد سے ہی آہستہ آہستہ قوم ترقی کا درست راستہ سمجھ سکے گی اور جو لوگ آج بظاہر اس راستے میں رکاوٹ محسوس ہوتے ہیں، وہی کل قوم کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ہمیں صرف صبر، حکمت، مکالمے اور مسلسل محنت کے ساتھ سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہوگا۔ ثقافت کو اپنانے اور ثقافت کا دن منانے کے لیے سب سے پہلے اس کی اصل روح، تاریخ اور فکری بنیادوں کو سمجھنا ضروری ہے۔

