حافظ نعیم الرحمان کا حکومت کو انتباہ، ’’عوام کا سمندر اسلام آباد کی طرف نکلا تو حکمرانوں کو پیچھے ہٹنا پڑے گا‘‘
جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف کراچی، لاہور اور پشاور میں جاری دھرنے چوتھے روز بھی جاری رہے۔
پشاور میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر قیمتوں میں کمی اور پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً 130 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، حکومت کو عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے پیٹرولیم لیوی کے معاملے کو حل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بڑی جدوجہد کے لیے تیار ہے، حکمران اس دن سے ڈریں جب عوام کا سمندر اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی جلاؤ گھیراؤ نہیں چاہتی، تاہم کرپشن اور لوٹ مار کے نظام کو جام کیا جائے گا اور حکومت کو عوامی مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔
امیر جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ حکومت اور بااثر طبقات اپنے قرضے اور ٹیکس معاف کراتے ہیں، جبکہ غریب عوام پر پیٹرولیم لیوی سمیت مختلف ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
انہوں نے سیاسی جماعتوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عوامی مسائل کا حقیقی ادراک نہیں۔ حکمرانوں اور متعلقہ اداروں کو پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور مہنگائی میں کمی کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کو 28 ماہ مکمل ہوچکے ہیں، تاہم حکمران عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہے ہیں اور اب بھی مراعات اور پروٹوکول ترک کرنے کو تیار نہیں۔
جماعت اسلامی کے دھرنے کے باعث لاہور میں مال روڈ کے دونوں اطراف

