پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے معاملے پر سوالات اٹھاتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 234 اور 148 کا حوالہ دیا ہے۔
علی ظفر کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر کی رپورٹ صدرِ مملکت کو بھیجی جاتی ہے، تاہم یہ واضح کیا جائے کہ رپورٹ کب پیش کی گئی اور صدر نے کن بنیادوں پر اطمینان حاصل کیا۔
انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 148 کے تحت امن و امان کی صورتحال سے نمٹنا وفاق کی بھی ذمہ داری ہے۔ اگر دہشت گردی کے واقعات گورنر راج کے نفاذ کی بنیاد بن سکتے ہیں تو پھر وفاق میں ایسے واقعات کی صورت میں بھی یہی اقدام کیوں نہیں کیا جاتا؟
پی ٹی آئی سینیٹر نے بلوچستان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر امن و امان برقرار رکھنے میں ناکامی گورنر راج کے نفاذ کا جواز ہے تو پھر بلوچستان میں گورنر راج کیوں نافذ نہیں کیا گیا؟

