تہران: ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں دارالحکومت تہران میں ایک تاریخی اور جذباتی جنازہ جلوس کا آغاز ہو چکا ہے جس میں ملک بھر سے لاکھوں افراد شرکت کر رہے ہیں۔
قومی پرچم میں لپٹا ہوا تابوت ایک خصوصی گاڑی کے ذریعے تہران کی مرکزی شاہراہوں سے ہوتا ہوا مہرآباد بین الاقوامی ہوائی اڈے کی جانب گامزن ہے۔ اس جلوس میں ان اہل خانہ کے تابوت بھی شامل ہیں جو حالیہ فضائی حملوں میں شہید ہوئے تھے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی دارالحکومت میں اس موقع پر غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں ۔ شہر کی اہم سڑکوں کو عام ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ حکومتی احکامات کے تحت سرکاری و نجی ادارے بھی سوگ کے باعث آج بند رکھے گئے ہیں۔
عوامی شرکت کا یہ عالم ہے کہ تہران میٹرو نے بھی شہریوں کی بڑی تعداد کے سفر کے باعث نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ حکومتی حلقوں کو توقع ہے کہ یہ اجتماع ملکی یکجہتی اور ریاستی نظام پر عوام کے اعتماد کے اظہار کا ایک بڑا ذریعہ ثابت ہوگا۔
سوگ کی یہ تقریبات جمعرات تک جاری رہیں گی جس کے بعد شہید سید علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔ حکومت نے اس حوالے سے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی یہ جنازہ اور سوگ کی تقریبات خصوصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور عالمی طاقتوں کی نظریں اس موقع پر جمی ہوئی ہیں کیونکہ یہ ایک بڑا سیاسی اور مذہبی اجتماع تصور کیا جا رہا ہے۔
ان حالات کے پیش نظر امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، جوہری پروگرام اور جنگ کے مستقل خاتمے جیسے اہم معاملات شامل تھے جو اب تدفین کے بعد دوبارہ شروع ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دنیا بھر سے آنے والے 70 سے زائد ممالک کے وفود کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران مشکل کی اس گھڑی میں عالمی برادری کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ یہ تقریبات ایرانی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر رہی ہیں۔

