گزشتہ رات میری رہائش گاہ کے قریب اپنے عملے کے لیے کرائے پر لیے گئے ایک اپارٹمنٹ پر انٹیلی جنس اداروں نے چھاپہ مارا۔ تمام افراد کے موبائل فون ضبط کر لیے گئے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کچھ افراد کو بعد میں رہا کر دیا گیا لیکن کسی کو بھی تشدد سے نہیں بخشا گیا۔میرے مینیجر اور ایک سیکیورٹی گارڈ تاحال لاپتہ ہیں اور انہیں واپس نہیں لایا گیا۔ سرداراخترمینگل

یہ محض سیکیورٹی کا معاملہ نہیں ہے۔ نسلی پروفائلنگ کی بنیاد پر ایک رہائش گاہ کو نشانہ بنا کر چھاپہ مارنا، اس کے بعد من مانی حراست، ذاتی موبائل فون ضبط کرنا اور جسمانی تشدد جیسے اقدامات سنگین انسانی حقوق کے خدشات کو جنم دیتے ہیں۔ سرداراخترمینگل
میں عوامی طور پر مطالبہ کرتا ہوں کہ فوری طور پر ان دونوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں اور انہیں بحفاظت واپس لایا جائے۔ اگر کسی کے خلاف کوئی الزام ہے تو اس سے شفاف اور قانونی طریقۂ کار کے تحت نمٹا جانا چاہیے، انہیں قانونی نمائندگی تک رسائی اور تمام قانونی حقوق و ضابطۂ کار کے تحت تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔
سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی بلوچستان کے لوگوں کو سندھ میں درپیش اس مبینہ بے خوفی اور عدم جواب دہی کی فضا سے لاتعلق نہیں ہو سکتے۔ سرداراختر مینگل
اُن افراد کے نام جو وہاں موجود تھے
(1) حاجی رجب ولد عید محمد
(2) بشار الدین ولد محمد عثمان
(3) نصراللہ ولد قادر بخش
(4) اسد ولد شفیع محمد
(5) محمد آصف ولد دین محمد
(6) محمد نعیم ولد پیر محمد
(7) محمد احسن ولد رحمت اللہ
(8) محمد وسیم ولد ممتاز احمد
(9) احمد ولد جمعہ
(10) محمد جمیل
(11) ثناء اللہ ولد میر جان
(12) مسعود احمد ولد عبد الکریم
(13) جمیل احمد ولد عبد الستار
ان 13 افراد میں سے حاجی رجب اور احمد تاحال رہا نہیں ہوئے۔

